لندن احتجاج میں شریک تحسین گیلانی جو پاکستانی سفارتخانے کے سامنے مہم چلا رہا تھا، ماضی میں را کے لوگوں سے ملاقاتیں کرچکا ہے۔
لندن میں ہونے والے احتجاج میں شریک تحسین گیلانی سے متعلق ’’ را ‘‘ سے روابط اور سرگرمیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، ان کے بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ سے رابطے رہے ہیں۔
تحسین گیلانی کی سرگرمیوں اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے رہنمائوں سے ملاقاتوں کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوششوں کا حصہ رہے ہیں۔
بیرون ملک ہونے والے بعض مظاہروں میں پاکستان مخالف نعروں اور بیانات کے پس منظر میں شریک افراد کے کردار کا جائزہ لینا ضروری ہے،تحسین گیلانی کے مبینہ روابط سے متعلق خط سامنے آگیا، جے کے ایل ایف کے سابق چیئرمین نے وضاحت طلب کی تھی
لندن میں ہونے والے احتجاج میں شریک تحسین گیلانی سے متعلق ایک خط سامنے آیا ہے جس میں ان کی بعض سرگرمیوں اور بھارتی خفیہ ادارے کے اہلکاروں سے ملاقاتوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
خط جے کے ایل ایف کے چیئرمین حمید بھٹ کی جانب سے تحریر کیا گیا تھا، جن کا بعد میں انتقال ہوگیا خط میں ماضی کے ایک معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے تحسین گیلانی سے بھارتی خفیہ ادارے کے اہلکاروں سے ملاقات سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تھی۔
خط میں لکھا گیا کہ 24 جنوری کو پارٹی کے ایک اہم ذمہ دار کی جانب سے مرکزی قائدین کو اطلاع ملی کہ برطانیہ میں مقیم ایک غیر جماعتی کشمیری شخص کی وساطت سے تحسین گیلانی نے بھارتی خفیہ ادارے کے اہلکاروں سے ملاقات کی۔
خط کے مطابق اس ملاقات کے حوالے سے اطلاع تحسین گیلانی نے خود بھی پارٹی کے ایک ذمہ دار کو فروری 2020 کے پہلے ہفتے میں دی تھی اس معاملے پر پارٹی کے برطانیہ میں موجود ذمہ داران اور مرکزی قیادت کے درمیان گفتگو ہوئی، جس کے بعد تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
خط میں کہا گیا کہ 20 فروری کو برطانیہ میں مقیم رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تحسین گیلانی نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کمیٹی کے قیام کی مخالفت کی، جس کے بعد پروفیسر راجہ تنویر خان کے ذریعے سخت نوٹس جاری کرنے کی سفارش کی گئی۔
خط میں حمید بھٹ نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے تحسین گیلانی سے کئی سوالات کے جوابات طلب کیے تھے ان سوالات میں ملاقات کی تاریخ، مقام، مقصد، ملاقات کا بندوبست کس کی جانب سے کیا گیا، قیادت کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا، ملاقات میں کون کون شریک تھا، بھارتی اہلکاروں کے نام اور عہدے، رابطہ نمبرز کا تبادلہ، گفتگو کی تفصیلات اور مستقبل میں کسی رابطے سے متعلق معلومات شامل تھیں
۔مکتوب میں تحسین گیلانی سے کہا گیا تھا کہ وہ خط موصول ہونے کے آٹھ روز کے اندر تفصیلی تحریری وضاحت فراہم کریں تاکہ معاملے پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے تاحال تحسین گیلانی کی جانب سے اس خط اور اس میں کیے گئے سوالات کے حوالے سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔