امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بعد پیدا ہونے والی نسبتاً پرسکون فضا ایک بار پھر کشیدگی میں تبدیل ہو گئی ہے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ خطے میں ایک نئی عسکری محاذ آرائی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی حملوں میں تقریباً 80 فوجی اور حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا جسے تہران نے جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
امریکی حملوں کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے فوری ردِعمل کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایران کی فضائی حدود میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور مفادات کو بھی نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر 85 امریکی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایران پر حملے ایرانی تیل کی برآمدات پر نئی پابندیاں اور مزید حملوں کی دھمکیاں مفاہمتی یادداشت کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران کے سیکیورٹی انتظامات کو بھی چیلنج کیا ہے تاہم دھونس دھمکی اور طاقت کے ذریعے مطالبات منوانے کا دور گزر چکا ہے اور ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ باقر قالیباف نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو بھی مفاہمتی فریم ورک کی خلاف ورزی قرار دیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی خام تیل کی ترسیل متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، شپنگ اخراجات میں بڑھوتری اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے