سال 2026 کے پہلے 6 ماہ میں سونے کی قیمتوں میں تاریخی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے ، جانیے سونا خریدنے والوں کو کتنا فائدہ یا نقصان ہوا اور ماہرین آگے کیا پیش گوئی کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ سونے کی قیمتیں دیکھنے والوں کے لیے کسی رولر کوسٹر سے کم ثابت نہیں ہوئے ، ایک طرف توسونا مسلسل نئی تاریخی بلندیاں چھوتا رہا، تو دوسری جانب صرف چند ہفتوں میں ایسی تیز گراوٹ آئی کہ ہزاروں سرمایہ کاروں کے منافع لمحوں میں ختم ہوگئے، جن لوگوں نے قیمتوں کے عروج پر سونا خریدا، انہیں بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ بروقت فروخت کرنے والے محدود منافع سمیٹنے میں کامیاب رہے۔
یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ صرف سرمایہ کاروں ہی نہیں بلکہ پوری گولڈ مارکیٹ کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سونا اگرچہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، لیکن مختصر مدت میں اس میں بھی بڑے خطرات موجود ہوتے ہیں۔
سونے کی قیمتوں کا تاریخی سفر
سال کے آغاز میں SJC گولڈ بارز کی قیمت تقریباً 153 ملین ویتنامی ڈونگ فی اونس تھی۔ تاہم عالمی منڈی میں سونے کی تیزی اور مقامی سطح پر سپلائی کی کمی کے باعث قیمتیں جنوری کے آخر تک بڑھ کر 191.3 ملین ڈونگ فی اونس کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
صرف ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں تقریباً 40 ملین ڈونگ کا اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے حیران کن تھا۔ اسی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے مزید منافع کی امید میں سونا خریدا۔
چند دنوں میں سب کچھ بدل گیا
تاریخی بلندی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور فروری کے آغاز میں سونے کی قیمت اچانک نیچے آنا شروع ہوئی اور صرف چند تجارتی سیشنز میں تقریباً 166 ملین ڈونگ فی اونس تک گر گئی۔
بعد ازاں مارچ میں قیمتیں ایک بار پھر 190 ملین ڈونگ کے قریب پہنچیں، لیکن یہ بحالی بھی عارضی ثابت ہوئی۔ ایران میں کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تبدیلیوں اور دیگر معاشی عوامل نے سونے کی قیمتوں کو مسلسل نیچے دھکیل دیا۔
مارچ، اپریل اور مئی کے دوران قیمتیں ایک کے بعد ایک اہم سطح سے نیچے آتی رہیں اور جون کے وسط تک سونا تقریباً 136 ملین ڈونگ فی اونس تک گر گیا۔
سونا خریدنے والوں کو کتنا نقصان ہوا؟
اگر کسی سرمایہ کار نے جنوری کے آخر میں تقریباً 191.3 ملین ڈونگ فی اونس پر سونا خریدا اور جون میں کم ترین سطح پر فروخت کیا تو اسے تقریباً 56 ملین ڈونگ فی اونس کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
اس کے علاوہ خرید و فروخت کے فرق (اسپریڈ) کو شامل کیا جائے تو حقیقی نقصان 60 ملین ڈونگ فی اونس تک پہنچ سکتا ہے۔
یہاں تک کہ وہ سرمایہ کار بھی محفوظ نہ رہ سکے جنہوں نے قیمت 170 ملین ڈونگ کے قریب آنے پر سونا فروخت کیا، کیونکہ انہیں بھی لاکھوں ڈونگ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اب سونے کی قیمت کہاں جائے گی؟
مالیاتی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتیں اب تیز اضافے کے بجائے استحکام کے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہیں، ان کا اندازہ ہے کہ مختصر مدت میں قیمتیں 135 سے 155 ملین ڈونگ فی اونس کے درمیان رہ سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سونے کی قیمت دوبارہ مضبوط ہوتی ہے، امریکی ڈالر کمزور پڑتا ہے اور امریکی فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کرتا ہے تو سونا دوبارہ اوپر جا سکتا ہے تاہم رواں سال کے آغاز جیسی تاریخی بلندیاں فوری طور پر واپس آنا آسان نہیں ہوگا۔
سرمایہ کاروں کے لیے اہم سبق
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ نے ثابت کر دیا کہ کوئی بھی سرمایہ کاری ہمیشہ اوپر نہیں جاتی ، اسی لیے پورا سرمایہ صرف سونے میں لگانے کے بجائے مختلف شعبوں میں تقسیم کرنا زیادہ محفوظ حکمت عملی ہے۔
ان کے مطابق مجموعی سرمایہ کا صرف 5 سے 10 فیصد حصہ سونے میں رکھنا مناسب ہے، جبکہ باقی رقم بچت، بانڈز، معیاری شیئرز اور میوچل فنڈز میں تقسیم کی جا سکتی ہے۔
سونے کی قیمتیں 2026 کے پہلے چھ ماہ میں سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوئیں ، کچھ افراد نے بروقت فروخت کرکے منافع حاصل کیا، لیکن زیادہ تر خریدار قیمتوں کی تاریخی بلندی پر خریداری کے باعث نقصان اٹھا بیٹھے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت جذبات کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی اور متنوع سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے۔