قدرت نے بعض مخلوقات کو ایسی حیران کن صلاحیتوں سے نوازا ہے جو انسان کو بھی حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک آرکٹک ٹرن ہے، جسے دنیا کا سب سے زیادہ سفر کرنے والا پرندہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ ننھا سمندری پرندہ ہر سال تقریباً 90 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرتا ہے۔ اس کا سفر قطب شمالی (آرکٹک) میں افزائش نسل کے مقامات سے شروع ہو کر قطب جنوبی (انٹارکٹیکا) کے ساحلوں تک پہنچتا ہے، جہاں سے یہ دوبارہ واپس لوٹ آتا ہے۔ اسی طویل ہجرت کی بدولت آرکٹک ٹرن ہر سال دو مرتبہ گرمی کا موسم دیکھتا ہے اور زمین پر موجود کسی بھی دوسرے جاندار کے مقابلے میں زیادہ دیر تک دن کی روشنی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آرکٹک ٹرن کی اوسط عمر تقریباً 30 سال ہوتی ہے اور اس عرصے میں یہ مجموعی طور پر اتنا سفر کرتا ہے جو زمین سے چاند تک تین بار آنے جانے کے فاصلے کے برابر بنتا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پرندہ اپنی طویل ہجرت کے دوران عالمی ہواؤں کا رخ استعمال کرکے توانائی بچاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کھلے سمندر کے اوپر پرواز کے دوران مختصر وقفوں میں آرام بھی کر لیتا ہے، جس سے مسلسل سفر ممکن ہو جاتا ہے۔
آرکٹک ٹرن کی ایک اور منفرد خصوصیت اس کی قدرتی سمت شناسی ہے۔ اس کی آنکھوں میں موجود ایک حیاتیاتی نظام زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرتا ہے، جس کی مدد سے یہ ہزاروں کلومیٹر طویل سفر میں اپنا راستہ نہیں بھولتا۔
یہ پرندہ پانی پر زیادہ دیر تک نہیں بیٹھتا کیونکہ اس کے پروں کا بھیگ جانا اس کی پرواز کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اس نے اڑتے ہوئے شکار کرنے کی غیرمعمولی مہارت حاصل کر لی ہے اور سمندر کی سطح سے مچھلیاں جھپٹ لیتا ہے، جبکہ اس کی رفتار بھی متاثر نہیں ہوتی۔
شمال کی جانب واپسی کے سفر میں آرکٹک ٹرن ایک دن میں تقریباً 500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے، جو اسے دنیا کے سب سے طاقتور اور طویل سفر کرنے والے پرندوں میں شامل کرتا ہے۔