افغانستان کرکٹ ٹیم کے سابق انٹرنیشنل فاسٹ باؤلر شپور زادران طویل علالت کے بعد 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے وہ اپنی 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل نئی دہلی کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئے جہاں وہ گزشتہ کئی روز سے زیر علاج تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شپور زادران ایک نایاب اور جان لیوا مدافعتی بیماری ہیموفاگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس (HLH) میں مبتلا تھے اور نئی دہلی کے اسپتال کے انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں زیر علاج تھے تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہو سکے۔
6 فٹ سے زائد قد کے مالک شپور زادران اپنی تیز رفتار اور جارحانہ باؤلنگ منفرد انداز اور لمبے لہراتے بالوں کی وجہ سے کرکٹ شائقین میں خاصے مقبول تھے۔ انہیں افغانستان کرکٹ کے ابتدائی عروج کے دور کے نمایاں فاسٹ باؤلرز میں شمار کیا جاتا تھا اور انہوں نے عالمی سطح پر افغانستان کی کرکٹ کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شپور زادران نے مہاجر کی حیثیت سے پاکستان کے شہر پشاور میں بھی زندگی کا ایک اہم حصہ گزارا جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی کرکٹ کی تربیت حاصل کی۔ اسی دوران ان کے ساتھ کھیلنے والوں میں افغانستان کے معروف کرکٹرز محمد نبی اصغر افغان اور دولت زادران بھی شامل تھے جنہوں نے بعد ازاں بین الاقوامی کرکٹ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
شپور زادران نے 2009 سے 2020 کے دوران افغانستان کی جانب سے 44 ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) اور 36 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ انہوں نے اپنی رفتار باؤنس اور جارحانہ انداز سے کئی اہم مواقع پر ٹیم کو کامیابیاں دلانے میں کردار ادا کیا۔
ان کے انتقال پر افغانستان کرکٹ کے حلقوں سابق و موجودہ کھلاڑیوں اور دنیا بھر کے کرکٹ شائقین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شپور زادران کو افغانستان کرکٹ کے ان کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود عالمی کرکٹ میں اپنے ملک کی شناخت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے انتقال سے افغانستان کرکٹ ایک باصلاحیت فاسٹ باؤلر سے محروم ہو گئی ہے جبکہ شائقین انہیں ان کی باؤلنگ اور کرکٹ کے لیے خدمات کے باعث ہمیشہ یاد رکھیں گے۔