مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعہ کی صبح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کمانڈوز کے قبضے کی ویڈیو سامنے آنے اور فضائی دفاعی نظام کے متحرک ہونے کی خبروں نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی بڑھ کر تقریباً 97 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اس سے ایک روز پہلے بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا اور مجموعی طور پر حالیہ دنوں میں قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران ممکنہ طور پر اپنے ہتھیار بڑھا رہا ہے تاہم امریکا کے پاس ان صلاحیتوں کو فوری ختم کرنے کی طاقت موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
موجودہ جنگ بندی وقتی ہو سکتی ہے اور اگر اپریل کے آخر تک امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس گزرتی ہے اس وقت خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اگر یہاں صورتحال مزید خراب ہوئی تو آنے والے ہفتوں میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی بات کی گئی ہے تاہم خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔