وزیراعظم شہباز شریف کی یو اے ای پر تازہ حملوں کی مذمت، شیخ محمد بن زاید النہیان سے مکمل یکجہتی کا اظہار

وزیراعظم شہباز شریف کی یو اے ای پر تازہ حملوں کی مذمت، شیخ محمد بن زاید النہیان سے مکمل یکجہتی کا اظہار

وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حدود میں گزشتہ رات ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نے حملوں کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے نام اپنے پیغام میں مکمل یکجہتی کا یقین دلایا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں یو اے ای کی حکومت اور اپنے اماراتی بہن بھائیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے حملے خطرناک اشتعال انگیزی ،جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، یو اے ای

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے جاری جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور اس کا احترام کرنا انتہائی ضروری ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پائیدار حل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں اور اس مقصد کے لیے ضروری سفارتی گنجائش فراہم کی جانی چاہیے۔

خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

خلیجی خطے میں گزشتہ چند برسوں سے ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات میں وقتاً فوقتاً اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر پڑتے ہیں۔

مئی 2026 کے ان حالیہ حملوں نے ایک بار پھر خطے کے دفاعی نظام اور سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے اسٹرٹیجک اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور جب بھی اماراتی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا ہے، پاکستان نے ہمیشہ صفِ اول میں کھڑے ہو کر اس کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم کا حالیہ بیان اسی دیرینہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد خلیجی ممالک کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان کا سفارتی مؤقف اور علاقائی استحکام

وزیراعظم کا فوری ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان یو اے ای کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔

شہباز شریف نے صرف مذمت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ’سفارتی گنجائش‘ اور ’مذاکرات‘ کی بات کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان خطے میں کسی نئی جنگ کا حامی نہیں ہے اور مسائل کا حل بات چیت میں دیکھتا ہے۔

جنگ بندی کے احترام پر زور دینا دراصل ان عناصر کو تنبیہ ہے جو خطے کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا یہ متوازن مؤقف اسے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے جو کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

Related Articles