قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں وراثت میں ملنے والی جائیداد اور پلاٹس کی فروخت پر کیپیٹل گین ٹیکس سے متعلق اہم تجاویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وراثت میں ملنے والی جائیداد کی اصل لاگت کا تعین مالک کی وفات کے دن اس کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق کیا جائے گایعنی اگر کسی جائیداد کی قیمت وفات کے دن طے ہو جاتی ہے تو بعد میں فروخت کے وقت اسی بنیاد پر منافع یا نقصان کا حساب لگایا جائے گا۔
ایف بی آر حکام کے مطابق اگر کسی پلاٹ کی قیمت والد کی وفات کے وقت8 کروڑ روپے تھی اور بعد میں وہ 10 کروڑ روپے میں فروخت ہوتا ہے تو 2 کروڑ روپے کے اضافے پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل لاگت کا تعین جائیداد کی منتقلی کے دن کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ ٹیکس کے نظام میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے،اس پر کمیٹی نے تجویز دی کہ ملکیت کی منتقلی کے دن کو ہی اصل لاگت کا معیار بنایا جائے۔
اجلاس میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر انکم ٹیکس ریٹرنز کو صرف الیکٹرانک ذرائع سے جمع کروانے کی تجویز بھی منظور کی گئی ایف بی آر حکام نے بتایا کہ آئندہ تمام انکم ٹیکس ریٹرنز صرف آن لائن نظام کے ذریعے جمع ہوں گے اور کاغذی طریقہ کار کو مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیوں کے مالیاتی گوشوارے بھی اب مشین ریڈایبل فارمیٹ میں جمع کروانا لازمی ہوگا، تاکہ ڈیجیٹل نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
ایف بی آر کے مطابق 2013 سے زیادہ تر نظام پہلے ہی ڈیجیٹل ہو چکا ہے، تاہم بعض شہروں میں اب بھی جزوی طور پر دستی طریقہ استعمال ہو رہا تھا، جسے اب مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔