وفاقی دارالحکومت میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے اور نئے علاقوں پر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ، جس میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس راجہ انعام امین منہاس شامل ہیں، نے میونسپل کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کرتے ہوئے سنگل بینچ کے فیصلے کو معطل کیا، جس کے تحت پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل سنگل بینچ نے اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے اور بعض نئے علاقوں پر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق ایم سی آئی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا تھا۔
تاہم میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی، جس پر اب ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایم سی آئی کا پراپرٹی ٹیکس سے متعلق نوٹیفکیشن فی الحال مؤثر رہے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کی طرف سے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کیے جانے کے بعد پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ اور اس کا اطلاق ان علاقوں پر بھی ممکن ہو گیا ہے جو پہلے اس دائرہ کار میں نہیں آتے تھے۔ تاہم کیس کی حتمی سماعت کے بعد ہی کوئی مستقل فیصلہ سامنے آ سکے گا۔
شہری حلقوں میں اس پیش رفت پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ افراد نے ٹیکس کے نفاذ کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے، جبکہ ایم سی آئی کا مؤقف ہے کہ شہر کی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیکس میں اضافہ ناگزیر ہے۔
عدالت میں کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی، جس میں ممکنہ طور پر فریقین کے دلائل کے بعد کوئی حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔