سپریم کورٹ کا جعلی ادویات کیس میں سخت برہمگی کا اظہار، ایف آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

سپریم کورٹ کا جعلی ادویات کیس میں سخت برہمگی کا اظہار، ایف آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی ادویات تیار کرنے اور انہیں بیرونِ ملک اسمگل کرنے کے سنگین الزام میں نامزد ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کر دی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو کیس کا مکمل ریکارڈ اگلی پیشی پر پیش کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے وکیل کو ملزمان کے خلاف مزید پختہ شواہد عدالت کے سامنے لانے کی سخت ہدایت کی ہے۔

عدالتی بینچ اور فریقین کے دلائل

جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ضیا خالد سمیت 3 ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں پر تفصیلی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پر جھوٹی افواہ پھیلانے پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

دورانِ سماعت ڈریپ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان انسانی زندگیوں سے کھیل رہے تھے اور یہاں جعلی ادویات تیار کرکے بیرون ممالک بھجوا رہے تھے، جبکہ سرکاری وکیل نے عدالت کو ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ نے بھی ان خطرناک ادویات کے حوالے سے پاکستان کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔

جسٹس ملک شہزاد کے ریمارکس

جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ہر روز جعلی ادویات کی وجہ سے بے گناہ لوگ مرتے ہیں، کسی کو بھی یہ لائسنس نہیں دیا جا سکتا کہ وہ جعلی ادویات بنائے اور لوگوں کو مارتا پھرے۔ انہوں نے ملزمان سے سوال کیا کہ اگر ان کا کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تو ڈریپ نے صرف ان کے خلاف ہی مقدمہ کیوں بنایا؟

ملزمان کے وکیل کا مؤقف

ملزمان کے وکیل نے اپنے دفاع میں کہا کہ ان کے مؤکلوں کا متعلقہ کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ تو یہ کمپنی ان کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی ان کا کوئی رینٹ ایگریمنٹ موجود ہے۔

جسٹس عقیل عباسی کا جواب

اس پر جسٹس عقیل عباسی نے وکیل کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ گلی کوچوں میں تو فارماسیوٹیکل کمپنی نہیں ہو سکتی۔ وہاں باقاعدہ ادویات بن رہی تھیں، کوئی چارپائی تو نہیں بن رہی تھی جو بغیر اجازت یا مالک کی علم کے تیار کی جا سکے۔

مزید پڑھیں:ملک میں عالمی برانڈز کے نام پر جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کا انکشاف

سماعت کے اختتام پر جسٹس جمال مندوخیل نے ڈریپ کو مزید شواہد لانے کا حکم دیا اور عدالت نے مقدمے کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

پاکستان میں ڈریپ کی موجودگی کے باوجود غیر رجسٹرڈ اور جعلی ادویات کی تیاری ایک دیرینہ اور سنگین مسئلہ رہی ہے۔

ماضی میں بھی دل کے اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز میں جعلی ادویات کے باعث درجنوں اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جس کے بعد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے فارماسیوٹیکل سیکٹر پر سوالات اٹھے۔

Related Articles