پیپلز پارٹی کے مخلص رکن اسمبلی انتقال کر گئے

پیپلز پارٹی کے مخلص رکن اسمبلی انتقال کر گئے

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر سیاستدان اور صوبائی اسمبلی کے موجودہ رکن میاں نعیم احمد کھرل جگر کے طویل عارضے کے باعث کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ کچھ عرصے سے جگر کی پچیدگیوں کے باعث کراچی کے مقامی اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔

 مرحوم کا جسدِ خاکی کراچی سے ان کے آبائی شہر خیرپور لایا جا رہا ہے، جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی اور انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

پی ایس 30 خیرپور سے مسلسل کامیابی کی تاریخ

یاد رہے کہ میاں نعیم احمد کھرل سندھ کی سیاست، بالخصوص ضلع خیرپور کا ایک بہت بڑا اور معتبر نام تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر صوبائی حلقہ پی ایس-30 (خیرپور) سے بھاری اکثریت سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان حکومت سازی، پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت، ن لیگ اپوزیشن میں بیٹھے گی

مرحوم کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران ریکارڈ 5 مرتبہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے، جو ان کے علاقے کی عوام اور پارٹی قیادت کا ان پر اٹوٹ اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا گہرا اظہارِ افسوس

نعیم احمد کھرل کے اچانک انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس پر ملک بھر کے سیاسی و سماجی حلقوں، پی پی پی کی مرکزی و صوبائی قیادت، اور خیرپور کی عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔

 صدرِ مملکت، وزیرِ اعلیٰ سندھ اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے اپنے علاحدہ تعزیتی بیانات میں میاں نعیم کھرل کی پارٹی کے لیے وفاداری اور عوامی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

خیرپور کی سیاست اور کھرل خاندان کا اثر و رسوخ

سندھ کے ضلع خیرپور میرس کی سیاست میں کھرل برادری اور میاں نعیم احمد کھرل کا سیاسی اثر و رسوخ دہائیوں پر محیط ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی شہزادے نواف بن نائف انتقال کر گئے، ریاض میں نمازِ جنازہ اور تدفین کا اعلان

انہوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کے نظریے اور بھٹو خاندان کے بیانیے کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ چاہے 2002 کے کٹھن سیاسی حالات ہوں یا اس کے بعد کے انتخابات، نعیم کھرل نے خیرپور میں پارٹی کے قلعے کو مضبوط رکھا۔

ان کی سیاست کا محور غریب پروری، علاقائی ترقی اور پسماندہ طبقات کی داد رسی تھا، یہی وجہ تھی کہ مخالفین بھی ان کی شرافت اور دھیمے لہجے کی سیاست کے معترف تھے۔

Related Articles