امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری کے آثار نظر آنے لگے ہیں، جس کے بعد برطانیہ نے متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے والے شہریوں کے لیے اپنی ٹریول ایڈوائزری میں اہم تبدیلی کر دی ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ نے دبئی سمیت متحدہ عرب امارات کے لیے جاری سفری ہدایات کو اپڈیٹ کرتے ہوئے غیر ضروری سفر سے گریز کی سابقہ ہدایت واپس لے لی ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق برطانوی شہری اب معمول کے مطابق دبئی اور متحدہ عرب امارات کا سفر کر سکتے ہیں۔
برطانیہ کی جانب سے یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور امریکا و ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد سامنے آیا ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری کے باعث سفری پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔
نئی ٹریول گائیڈ لائن میں برطانوی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں قیام یا سفر کے دوران صورتحال پر نظر رکھیں، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور اپنے سفری منصوبوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔
برطانوی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ دبئی اور دیگر امارات کے لیے سفر کی اجازت دی گئی ہے، تاہم خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ تبدیلی کی صورت میں سفری ہدایات کو دوبارہ اپڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے اثرات نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ خطے کے سفر، تجارت اور فضائی سرگرمیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی، عالمی سفر اور کاروبار کا اہم مرکز ہونے کی وجہ سے سفری معمولات کی بحالی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔