انسانی جلد پر موجود ننھے جاندار، حیران کن حقیقت سامنے آ گئی

انسانی جلد پر موجود ننھے جاندار، حیران کن حقیقت سامنے آ گئی

انسانی جلد پر موجود انتہائی باریک جاندار ڈیموڈیکس مائٹس کے بارے میں نئی سائنسی تحقیقات سامنے آئی ہیں جنہوں نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور ، 35 ہزار سے زائد اسنیکس ایک ہی جگہ

یہ مائٹس خوردبینی سطح کے آراکنڈز ہیں یعنی ان کا تعلق مکڑیوں اور چیچڑوں جیسے جانداروں سے ہے۔ یہ انسانی جلد کے بالوں کی جڑوں اور تیل پیدا کرنے والی غدودوں میں رہائش اختیار کرتے ہیں خاص طور پر چہرے، پیشانی، ناک اور پلکوں کے قریب۔

تحقیق کے مطابق تقریباً ہر بالغ انسان ان مائٹس کو اپنے جسم پر رکھتا ہے اور زیادہ تر لوگ انہیں بچپن میں اپنے والدین سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ جاندار انسانی جلد کے قدرتی نظام یعنی مائیکرو بایوم کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:400 سال بعد ولیم شیکسپیئر کے گمشدہ گھر کا سراغ مل گیا

یہ مائٹس جلد پر موجود تیل (سیبم) اور مردہ خلیات کو اپنی خوراک بناتے ہیںاور اسی عمل میں وہ جلد کے مساموں کی صفائی میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان ان کے لیے ایک مکمل ماحول اور بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ زیادہ تر رات کے وقت سرگرم ہوتے ہیں، جب یہ سوراخوں سے باہر آ کر حرکت کرتے ہیں اور ملاپ کرتے ہیں اس کے بعد دوبارہ بالوں کی جڑوں میں واپس جا کر انڈے دیتے ہیں۔

یہ بھی پرھیں:آٹھ سال میں صرف ایک بار کھلنے والا پودا ،نایاب ’سنو لوٹس‘ خطرے میں

ایک دلچسپ اور قدرے حیران کن بات یہ ہے کہ ان کے جسم میں فضلہ خارج کرنے کا کوئی نظام نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے یہ اپنی پوری مختصر زندگی کے دوران فضلہ اندر ہی جمع رکھتے ہیں اور تقریباً دو ہفتے بعد مر کر جلد کے مساموں میں ہی تحلیل ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ یہ عموماً نقصان دہ نہیں ہوتے، لیکن ان کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ جائے تو جلد میں جلن، سوزش یا روزیشیا جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں، جیسا کہ ماہرینِ جلد بتاتے ہیں

editor

Related Articles