یہ مائٹس خوردبینی سطح کے آراکنڈز ہیں یعنی ان کا تعلق مکڑیوں اور چیچڑوں جیسے جانداروں سے ہے۔ یہ انسانی جلد کے بالوں کی جڑوں اور تیل پیدا کرنے والی غدودوں میں رہائش اختیار کرتے ہیں خاص طور پر چہرے، پیشانی، ناک اور پلکوں کے قریب۔
تحقیق کے مطابق تقریباً ہر بالغ انسان ان مائٹس کو اپنے جسم پر رکھتا ہے اور زیادہ تر لوگ انہیں بچپن میں اپنے والدین سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ جاندار انسانی جلد کے قدرتی نظام یعنی مائیکرو بایوم کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
یہ مائٹس جلد پر موجود تیل (سیبم) اور مردہ خلیات کو اپنی خوراک بناتے ہیںاور اسی عمل میں وہ جلد کے مساموں کی صفائی میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان ان کے لیے ایک مکمل ماحول اور بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ زیادہ تر رات کے وقت سرگرم ہوتے ہیں، جب یہ سوراخوں سے باہر آ کر حرکت کرتے ہیں اور ملاپ کرتے ہیں اس کے بعد دوبارہ بالوں کی جڑوں میں واپس جا کر انڈے دیتے ہیں۔
ایک دلچسپ اور قدرے حیران کن بات یہ ہے کہ ان کے جسم میں فضلہ خارج کرنے کا کوئی نظام نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے یہ اپنی پوری مختصر زندگی کے دوران فضلہ اندر ہی جمع رکھتے ہیں اور تقریباً دو ہفتے بعد مر کر جلد کے مساموں میں ہی تحلیل ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ یہ عموماً نقصان دہ نہیں ہوتے، لیکن ان کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ جائے تو جلد میں جلن، سوزش یا روزیشیا جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں، جیسا کہ ماہرینِ جلد بتاتے ہیں