مذاکرات کا اصل محور جنگ کا خاتمہ ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

مذاکرات کا اصل محور جنگ کا خاتمہ ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

 ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا  ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ہم ایسے موڑ پر پہنچ گئے ہیں جہاں معاہدہ قریب ہے، مذاکرات کا اصل محور جنگ کا خاتمہ ہے۔

  تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کے دائرہ کار میں پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران پہنچے ہیں ،اس موقع پر اسماعیل بقائی نے بتایا کہ مذاکرات میں پاکستان اب بھی اہم ثالث ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ ایک قطری وفد اس وقت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چند دوروں یا ہفتوں اور مہینوں پر محیط بات چیت کے بعد ہم لازمی طور پر کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے کیونکہ سفارت کاری کو وقت درکار ہوتا ہے۔

اس دوران بقائی نے اشارہ کیا کہ جوہری فائل سے متعلق تفصیلات پر اس مرحلے پر بحث نہیں کی جا رہی۔

یہ بھی پڑھیں :جنگ کا آغاز نہیں اپنا دفاع کیا، مذاکرات اس وقت ہی ہو سکتے ہیں جب دوسرا فریق سنجیدہ ہو ، ایرانی وزیرخارجہ

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایران میں اعلیٰ افزودہ یورینیم سے متعلق تفصیلات میں جانے کی کوشش کریں گے تو ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے۔

یاد رہے کہ ایرانی فریق نے پہلے اعلیٰ افزودہ یورینیم کو، جس کا وزن تقریباً 440 کلوگرام ہے، ملک کے اندر سے باہر منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی طرح تہران نے جنگ کے بعد مضيق ہرمز میں بارہا ایک نئی صورتحال کی بات کی ہے، اور اس نے ایک ایسی نئی اتھارٹی قائم کی ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ اس تزویراتی آبی گزرگاہ کا انتظام سنبھالے گی جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی پانچویں سپلائی گزرتی ہے۔

دوسری طرف واشنگٹن ہرمز کو جہاز رانی کی نقل و حرکت کے لیے بغیر کسی شرط کے کھولنے پر بضد رہا ہے، اس نے ایرانی اندرون میں یورینیم کے باقی رہنے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

editor

Related Articles