وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم مالی بوجھ ڈالا جائے اور معاشی اصلاحات کو اس انداز میں آگے بڑھایا جائے کہ عام شہری کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بار بجٹ میں ٹیکس بڑھانے کے بجائے ٹیکس کے نظام میں بہتری، اس کی مؤثر عمل داری اور کمپلائنس کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد محصولات کے نظام کو شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے بغیر اس کے کہ پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقے پر اضافی بوجھ ڈالا جائے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مہنگائی میں کمی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مختلف پالیسی اصلاحات پر کام جاری ہے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ایک سوال کے جواب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سطح پر مثبت کردار ادا کرنے کے لیے فعال ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ محض تنقید کے بجائے ملک کی معاشی بہتری اور استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں، ان کا کہنا تھا کہ زرعی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے تو گندم سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ بعض کاشتکار پہلے ہی جدید طریقوں سے فی ایکڑ پیداوار کو ساٹھ سے ستر من تک لے جا چکے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف زرعی شعبے کے مسائل سے مکمل آگاہ ہیں اور حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اگر پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا تو ملک کی برآمدی صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔