قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بجلی کی قیمتوں اور سبسڈی سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے، تاہم وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس حوالے سے کوئی حتمی مؤقف دینے سے گریز کیا۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس کے دوران ارکان کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا حکومت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے جا رہی ہے، خاص طور پر200یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے رعایت کے مستقبل کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیر توانائی اویس لغاری اور وزیر اعظم اس معاملے پر مسلسل کام کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں بجلی سبسڈی سے متعلق مزید بات چیت اور مشاورت کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ ایسا نظام بنایا جا سکے جو قومی معیشت اور عوام دونوں کے لیے بہتر ہو۔
بجلی سستی ہوگی یا مہنگی؟
اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے وزیر خزانہ سے براہ راست سوال کیا کہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوگی یا اضافہ متوقع ہےتاہم وزیر خزانہ نے اس سوال پر واضح جواب دینے سے اجتناب کیا۔
محمد اورنگزیب نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکت۔ ان کے اس مؤقف کے بعد بجلی صارفین میں آئندہ پالیسی سے متعلق بے یقینی برقرار ہے۔
آئی ایم ایف بورڈ اجلاس کا ذکر
وزیر خزانہ نے اجلاس میں آئی ایم ایف کے ساتھ جاری معاملات پر بھی گفتگو کی انہوں نے بتایا کہ مالیاتی ادارے کے بورڈ کا اجلاس کل متوقع ہے جبکہ پاکستان اپنے مقررہ اہداف پورے کر چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قرض پروگرام کی منظوری کا حتمی فیصلہ مالیاتی ادارے کے بورڈ نے کرنا ہے، تاہم حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔