مقبوضہ کشمیر سے 23 سال بھارتی جیل میں گزارنے والے ایک حریت پسند کا پاکستانی قیادت کے نام خط سوشل میڈیا میں وائرل

مقبوضہ کشمیر سے 23 سال بھارتی جیل میں گزارنے والے ایک حریت پسند کا پاکستانی قیادت کے نام خط سوشل میڈیا میں وائرل

بھارتی جیل میں 23 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ایک حریت پسند کشمیری کا پاکستانی قیادت کے نام لکھا گیا خط منظر عام پر آ گیا جو سوشل میڈیا پر بھی تیزی سےوائرل ہو رہا ۔ خط میں حریت رہنما نے آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بعض سیاسی و سماجی عناصر کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے، حریت پسند کشمیری نے  پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار اور ریاستی اداروں کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔

  حریت رہنما کی جانب سے لکھے گئے خط کا متن ۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالٰی

وطن عزیز مدینہ ثانی پاکستان کی ھرھر طرف سے نصرت و حفاظت فرمائے اسے جلد مکمل مستحکم دو قومی نظریے کا علمبردار امن و سلامتی کا مسکن بنائے اور

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

 کا پاکستان بنائے آمین

گزارش ہے  کہ آزاد کشمیر میں یہ حالات اچانک نہیں بنے ان کے لیے مدت سے اور گذشتہ کچھ سالوں سے شدت سے بھارت و اسرائیل کی طرف سے کام جاری تھا ،جبکہ ھماری حکومتوں نے جو غلطیاں کیں ہیں  ان میں سے کچھ یہ ہیں

1۔ جان بوجھ کر نظریہ الحاق پاکستان کی حامل قوتوں کو غیر ملکی سازشوں کی وجہ سے کمزور کیا گیا ۔

2 ۔قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ تعالی کی جماعت مسلم کانفرنس کو کمزور کیا گیا اور مجاہدین کو آزاد کشمیر سے نکال کر عملا تحریک آزادی جموں کشمیر کے بیس کیمپ کو کمزور کر کے اپنی طاقت کو ختم کیا گیا ۔

3۔ تعلیمی اداروں سرکاری دفاتر میں وطن عزیز مدینہ ثانی پاکستان مخالف نظریات کو پختہ ہونے دیا گیا بلکہ سہولت کاری کی گئی ۔

4۔  ہم گذشتہ کئی سالوں سے آپ لوگوں کو بتارہے  تھے کہ ہم اب مقبوضہ جموں کشمیر کی بجائے ہر 14 اگست کو راولاکوٹ ،ھجریرہ وغیرہ میں اسلام آباد سے پاکستانی پرچم ،بیج ،اسٹیکر وغیرہ بھیج رہے ہیں  اس طرف توجہ دیں ۔

5 اگست 2019 سے پہلے بھارت کا کوئی مرکزی وزیر بھی لال چوک سرینگر میں بھارت کا پرچم نہیں لہرا سکتا تھا دس لاکھ فورسز کے باوجود وہاں صرف پاکستانی پرچم لہرائے جاتے تھے  ہر اونچی جگہ ہر اہم جگہ  ہر اہم دن پر حتی کہ میتیوں اور قبروں پر بھی ۔

اب اسی لال چوک اور وادی میں پاکستانی پر چم کی جگہ بھارتی ترنگا لہرایا جا رہا ہے  پاک افواج اور مدینہ ثانی پاکستان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔

5۔  ہم  نے آپ لوگوں کو بارہا بتایا کہ آزاد کشمیر میں خصوصا بیرون یورپی ممالک اور راولا کوٹ، کوٹلی ،باغ ،میرپور ،وغیرہ میں پاکستان مخالف سرگرمیوں تیزہو رہی ہیں مگر آپ لوگوں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔الٹا ہمارے  آگے ہیں  رکاوٹیں کھڑی کیں ۔

اب دشمن بھارت کافی حد تک مقبوضہ جموں کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹا کر آزاد کشمیر کی طرف مبذول کروا چکا ہے  ، ہماری جگ ھنسائی ہو چکی ہے ،وہ بھی اس وقت جب ہم دنیا کو بڑی تباہی سے بچا کر ایران ،امریکہ کی صلح کروا رہے تھے توہمارے  اپنے ملک میں بھارت و اسرائیل حالات خراب کر چکے ہیں  ،یہ حقوق کی آڑ میں ملک دشمن قوتوں کی پراکسیاں ھیں ،ان کو ختم کرنے کے لیے۔

،،،،ریاست پاکستان کے فوری کرنے کے کام ،،،،،

1۔ ریاست پاکستان کو اس بار کسی قسم کی کمزوری ہر  گز نہیں دکھانی چاہیے  اور نہ بلیک میل ہونا چاہیے نہ کوئی بیرونی پریشر و سازش قبول کرنی چاہیے  ۔اپنی رٹ مکمل حکمت عملی سے قائم کرنی چا ہیے ۔

2۔ عوام کو ان دشمن کی عوام دشمن پراکسیوں کے عزائم بتا کر ان سے الگ کرنا چاہیے ،انکے غیر آئینی غیر اخلاقی مطالبات کی خطرناکی،اس کے مقابل بھارت کی تیاری عوام کو بتائی جائے ،عوام کو ان چند شرپسندوں سے بہترین تدبیر سے حکمت عملی سے دور کیا جائے۔

3۔ چند شر پسندوں کو چھوڑ کر یہ اپنے لوگ ہیں  اس لیے طاقت کا استعمال بہت مجبوری میں اصل مجرموں کے خلاف ہی  کریں۔ حکمت عملی اور دانشمندی سے انکے غبارے سے ھوا نکالیں، ان میں سے اچھے لوگ منتخب کر کے متبادل وفادار قیادت تیار کریں جو حقوق کی بات کے ساتھ ساتھ نظریہ الحاق پاکستان کو مضبوط کرے باقی باطل نظریات کی حوصلہ شکنی کرے۔

4۔ جب یہ بکھر جائیں پھر ان پراکسیوں کی قیادت کو ان کے جرائم کے لحاظ سے جاندار مختلف کیسز میں ضرور پکڑیں تاکہ آئندہ معصوم عوام کو گمراہ کر کے ریاست پاکستان کی جگ ھنسائی کا موقع نہ پیدا کر سکیں

5۔ عوام کو ضروری سہولیات ضرور دیں مگر پاکستان نواز لوگوں کے ذریعے  ہی دیں ناکہ پہلے کی طرح شر پسند عناصر کے ذریعے البتہ آزاد کشمیر کی سیاسی لیڈر شپ کی بھی اگلے مرحلے پر اصلاح کریں، تاکہ وہ بھی بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کی بجائے ریاست پاکستان کے ھی وفا داررہیں ۔

6۔ الیکشن وقت پر کروائیں ،پاکستان نواز لوگوں کی مکمل مدد کریں مہاجرین کی 12 سیٹیں کسی بھی صورت میں ختم نہ کریں ،بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں چالیس لاکھ ڈومیسائل تقسیم کر کے اپنا ووٹ بینک بڑھا چکا ہے۔

قوم پرستوں کے مقابلے میں اپنے الحاق پاکستان والوں کو حکیمانہ طریقے سے منظم کرنے کی اور سڑکوں پر لانے کی ضرورت  ہے ۔

پھر ان پر دست شفقت رکھنے کی ضرورت ہے  ،ڈنگ ٹپاو پالیسیوں نے ہی  یہ دن دکھائے ہیں اس سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے ۔

7۔ ریاست اپنا مبنی برحق جاندار مضبوط بیانیہ بنا کر اس کو عوام تک  ہرسطح پرہر طریقے سے پہنچائے ۔

8۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو ماضی کی اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے  سفارتی ،سیاسی اور عسکری سطح پر مضبوط کیا جائے۔

مقبوضہ جموں کشمیر میں لوکل مضبوط فعال عسکریت نظر آنی چاھیے ۔ماضی گواہ ہے  یہی دشمن بھارت کا علاج ھے پاکستان میں امن و استحکام کی کلید ہے ۔

یاد رکھیں بھارت کے لیے تنازعہ جموں کشمیر اتنا مسئلہ نہیں  ہے ھندوتوا کے بھارت کے لیے اصل مسئلہ اسلامی ایٹمی ریاست پاکستان ہے جسے وہ اپنی بھارت ماتا کہ حصہ ،مہا بھارت کے آگے واحد رکاوٹ سمجھتا ہے ،اسی طرح اسرائیل گرئیٹر اسرائیل کے آگے رکاوٹ صرف مدینہ ثانی پاکستان کو سمجھتا ہے ۔

9۔ اللہ تعالی نے پاکستان کو جو عزت اس وقت دنیا میں دی ہے  اس کا فائدہ اٹھا کر مقبوضہ جموں کشمیر کے لیے بھارت کے مسلمانوں کے لیے مضبوط حکمت عملی مرتب کرنی چا ہیے تاکہ نہرو ،لیاقت معاہدے پر کچھ عمل ھو سکے

10۔ آزاد کشمیر، پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ تعالی ،نظریہ پاکستان ،پاکستانیت ،پاکستان کے اصل ہیروز کو پڑھایا جائےاور آزاد کشمیر کے سرکاری اداروں میں نظر رکھی جائے ریاست مخالف نظریہ کو ختم کر کے اصل نظریہ الحاق پاکستان کو مضبوط تر کیا جائے۔

11۔ ڈوگرہ دور میں اور اب بھارتی مظالم انسانیت شکنی ،ھندوتوا کے انسانیت دشمن عزائم پر مبنی لٹریچر اور بانیان آزاد کشمیر کی تحریک آزادی، خدمات ،قربانیوں کا نئی نسل کو پڑھایا جائے،ڈاکو منٹریاں، مختصر ویڈیو گرافکس بنا بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائے جائیں تاکہ نوجوانوں کو اصل تاریخ، اپنے محسنوں کا اور آزاد کشمیر کیسے اور کیوں وجود میں آیا یہ سب پتہ چلے وہ ھر قسم کی فکری ،منہجی گمراہی سے بچ سکیں۔

 آزاد کشمیر کو حقیقی معنوں میں تحریک آزادی جموں کشمیر کا بیس کیمپ بنایا جائے ،حکومت آزاد کشمیر یا کشمیر لبریشن سیل سرعام تسلیم کرے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں کی مالی اخلاقی سفارتی مدد وہ کرتے ہیں۔

12۔ پاکستانی سفارت خانوں، دفتر خارجہ و داخلہ میں الگ سے کشمیر ڈیسک قائم کرنے چاھییں

13۔ مین اسٹریم میڈیا پر تحریک آزادی جموں کشمیر کے لیے وقت مختص کروانا چاہیے ،تاریخ کو جاننے والے مخلص لوگوں سے وھاں گفتگو کروانی چا ہیے ۔

14۔ بیرون ممالک اورسیز اور تعلیمی اداروں میں کم از کم بھارت کی طرح کام کرنا چاہیے ۔

15۔ کشمیر پر واضح موقف رکھیں کہ تنازعہ جموں کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری سے حل کیا جائے

جنیوا، او آئی سی ،یو این او ،وغیرہ عالمی فورموں پر بھی اسی موقف کی باز گزشت سنائی دے

16۔ عالمی توجہ کے مرکز مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارت بدل کر آزاد کشمیر کو توجہ کا مرکز بنانا چا ہتا ہے  اسے پھر بہترین جاندار غیرت پر مبنی حکمت عملی سے مقبوضہ جموں کشمیر منتقل کر کے تا حصول آزادی مستقل عالمی توجہ کا مرکز بنائے رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔

17۔ اندرونی طور پر مستحکم مضبوط مکمل پاکستان ھی اپنے اھداف باعزت طریقے سے حاصل کر سکے گا ۔

18۔ پوری آزاد کشمیر کی عوام ہماری  اپنی عوام ہے ،صرف یہ چند شر پسند عناصر کا جتھا شرپسندی کرتا  ہے اس لیے ھمیں عام کشمیری عوام سے اس جتھے کو الگ کر کے مخاطب و ڈیل کرنا چا ہیے ،اسی طرح اس شرپسند جتھے کو مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری تحریک آزادی کا نمائندہ ھونے کا موقع نہیں دینا چاہیے ۔

مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری بھارت مخالف تحریک آزادی جموں کشمیر کا نمائندہ فورم صرف ،،،آل پارٹیز حریت کانفرنس جموں کشمیر،،، ہے  جس کے چئیرمین پاکستان کے انتھک سپا ہی  جناب مسرت عالم بٹ صاحب جانشین سید علی گیلانی مرحوم  ہیں

(حال تہاڑ)

editor

Related Articles