خیبر پختونخوا کے بالائی اور گلیشیائی علاقوں میں سیلاب سے قبل خبردار کرنے کے لیے نصب ارلی فلڈ وارننگ سسٹم کے اہم آلات کی چوری اور تخریب کاری نے ماہرین اور متعلقہ اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جس کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلابوں کی بروقت پیشگوئی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کمراٹ، منیال اور دیگر حساس وادیوں میں نصب متعدد مانیٹرنگ اسٹیشنوں نے سگنلز بھیجنا بند کر دیے ہیں۔ ان اسٹیشنوں کا مقصد گلیشیائی علاقوں میں موسمی تبدیلیوں، بارشوں، پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنا تھا تاکہ مقامی آبادی کو بروقت خبردار کیا جا سکے۔
ریجنل میٹرولوجیکل سینٹر پشاور کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد فہیم نے کہا ہے کہ ارلی فلڈ وارننگ سسٹم اقوام متحدہ کے تعاون اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت خیبر پختونخوا کی آٹھ حساس وادیوں میں تقریباً 85 جدید آلات نصب کیے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان آلات میں آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز، بارش ناپنے والے جدید گیجز، واٹر لیول سینسرز، کمیونیکیشن ڈیوائسز اور دیگر حساس آلات شامل تھے جو چوبیس گھنٹے موسمی اور آبی صورتحال کا ڈیٹا متعلقہ اداروں تک پہنچاتے تھے۔
ڈاکٹر محمد فہیم کے مطابق بعض علاقوں میں شدید موسم اور سیلابی ریلوں کے باعث آلات کو نقصان پہنچا تاہم متعدد مقامات پر نامعلوم افراد نے بیٹریاں، سولر پینلز، سینسرز اور دیگر قیمتی سامان چوری کر لیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کم از کم 14 اہم اسٹیشن متاثر ہوئے اور ان سے ڈیٹا کی ترسیل مکمل یا جزوی طور پر معطل ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ جدید اور درآمد شدہ آلات نہایت مہنگے ہیں اور ایک مکمل آٹومیٹک اسٹیشن کی مالیت 50 سے 70 لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم اصل نقصان مالی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے ہے کیونکہ یہی نظام ممکنہ سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور دیگر قدرتی خطرات کے بارے میں بروقت وارننگ جاری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے واقعے کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرا دی ہے جبکہ صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ آلات کی بحالی اور چوری شدہ سامان کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگرچہ 85 میں سے 58 آلات اب بھی فعال ہیں اور ان سے موصول ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر وارننگز جاری کی جا رہی ہیں تاہم مکمل اور مؤثر نگرانی کے لیے تمام اسٹیشنوں کا فعال ہونا ضروری ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مون سون بارشوں اور گلیشیائی پگھلاؤ کے باعث سیلابی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔