خیبر پختونخوا حکومت کی نا اہلی، بالاکوٹ ہسپتال 9 سال بعد بھی نامکمل

خیبر پختونخوا حکومت کی نا اہلی، بالاکوٹ ہسپتال 9 سال بعد بھی نامکمل

پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں 112 بیڈز پر مشتمل کیٹیگری سی ہسپتال کی تعمیر 9 سالوں میں بھی مکمل نہیں ہوا جس کا تخمینہ 57 کروڑ سے 61 کروڑ تک پہنچ گیا۔

آزاد ڈیجیٹیل کے پاس موجود دستاویزات کے مطبق ضلع مانسہرہ کے علاقے بالاکوٹ میں کیٹیگری سی ہسپتال مالی سال 2014 اور 2015 میں منظورہوا لیکن سست روی کے باعث اس کی تعمیر2017 میں شروع ہوئی ، سول ہسپتال کیلئے پی سی ون میں 57 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑی اور موٹر سائیکل مالکان کے لیے اہم خبر

تاہم نظر ثانی شدہ پی سی ون میں اس کی لاگت 61 کروڑ 66 لاکھ 82 ہزار تک پہنچ گئی۔ کیٹیگری سی ہسپتال میں 20 بیڈز پرمشتمل سرجیکل وارڈ ، 20 بیڈز میڈیکل ، 15 بیڈز او بی ایس، 10 بیڈز پیڈیاٹرک، 10 بیڈز ائی، 10 بیڈز ای این ٹی ، 2 بیڈز ڈینٹیسٹری یونٹ، پانچ بیڈز ایمرجنسی، 5 بیڈز لیبر روم اور انتہاہی نگہداشت یونٹ 5 بیڈز پر مشتمل ہیں ۔

ہسپتال کی باونڈری وال تعمیر ہونے کے بعد گر گئی ہے جس کو اب دوبارہ تعمیر کیا جائے گا تاہم متعلقہ حکام کے مطابق مقامی فرد کی جانب سے درختوں کی کٹنگ سے باونڈری وال گر گئی ہے ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر فیصل شہزاد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کیٹیگری سی ہسپتال میں پیرامیڈیکس ہاسٹل مکمل ہوچکا ہے کچھ اضافی کام کو شامل کیا گیا ہے دس سے پندرہ فیصد کام رہتا ہے جس کو جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *