گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اعتماد کا ووٹ لینے کا مشورہ دیدیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ کابینہ میں اتنی جلدی تبدیلی کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ علی امین گنڈاپور کو مشورہ دیں گے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لے لیں کیونکہ ان کے خیال میں وزیراعلیٰ اپنی اکثریت کھو چکے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں دن دہاڑے لوٹ مار ہو رہی ہے اور صوبے کی 26 یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کی کمی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ نے وائس چانسلر کے عہدوں کے لیے اپنے لوگوں کو تعینات کرنے کی کوشش کی، جو کہ ان کے مطابق کرپٹ ہیں۔ گورنر نے کہا کہ جو لوگ وفاداری کا فارم فل نہیں کرتے انہیں عہدوں سے ہٹا دینا چاہیے اور کرپٹ افراد کو سزا دی جائے۔
انہوں نے صوبے میں بدترین امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈی آئی خان، ٹانک، بنوں، لکی اور کوہاٹ میں حکومت کی کوئی رٹ نظر نہیں آتی۔ ان علاقوں میں نو گو ایریاز بن چکے ہیں، اور سرکاری ملازمین کو عوامی ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے وقت شناخت کا ڈر ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ ٹانک میں آمد و رفت مشکل ہوگئی ہے اور صوبائی حکومت 40 کلومیٹر کے روڈ کو محفوظ نہیں بنا سکی، جو وزیراعلیٰ کے گاؤں سے بھی گزرتا ہے۔
گورنر نے ماضی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2008ء سے پہلے پختونخوا کی صورتحال مختلف تھی، اور جب پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت سنبھالی تو پختونخوا بارود سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج سوات میں ٹارگٹڈ کارروائیاں ہو رہی ہیں، پولیس، سرکاری ملازمین اور فوجوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو کا حوالہ دیا، جس میں مولانا کے گھر جانے والے راستے پر لوگوں کی موجودگی اور ججوں پر حملوں کی بات کی گئی ہے، اور ایک جج کے اغواء کا بھی ذکر کیا۔