افغان میڈیا تحقیقات میں بھی شواہد نہ مل سکے،ہسپتال پر حملے کا دعوی بے بنیاد

افغان میڈیا تحقیقات میں بھی شواہد نہ مل سکے،ہسپتال پر حملے کا دعوی بے بنیاد

افغان طالبان کے اس دعوے کی مزید تردید سامنے آ گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حملہ کابل کے وسط میں واقع ایک بحالی مرکز یا ہسپتال کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔

 طالبان نے مقامی صحافیوں کو مبینہ حملے کے مقام تک رسائی فراہم کی، جہاں میڈیا ٹیموں نے رات بھر انتظار کے بعد جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ معائنے کے دوران نہ تو کسی قسم کے خون کے نشانات ملے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے شواہد سامنے آئے۔

مقامی اور علاقائی میڈیا اداروں، جن میں زویہ نیوز اور افغان ٹائمز شامل ہیں، نے بھی اب تک کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ اس سے طالبان کے اس دعوے پر سوالات اٹھ گئے ہیں کہ حملہ کسی طبی یا بحالی مرکز کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اصل مقام سے کچھ فاصلے پر ہوا تھا، جبکہ مبینہ بحالی مرکز یا ہسپتال محفوظ رہا۔ موقع پر صرف معمولی نوعیت کا ساختی نقصان اور آگ کے اثرات دیکھے گئے، جو کسی بڑے حملے کی نشاندہی نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان کا باجوڑ میں سول آبادی پر حملہ ، مارٹر گولہ گھر پر گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نقصان صرف ایک محدود جگہ تک رہا جہاں آگ بھڑکی، جبکہ اطراف کا علاقہ مکمل طور پر محفوظ رہا۔ دورے کے دوران کسی زخمی فرد کی موجودگی بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔

کچھ ذرائع کے مطابق بحالی مرکز کے قریب لگنے والی آگ ممکنہ طور پر اس وقت بھڑکی جب قریب موجود ایک عسکری کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اسلحہ کے ذخیرے میں دھماکے اور آگ کے شعلے دیکھے گئے۔

مجموعی طور پر زمینی حقائق طالبان کے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے کہ حملہ ہسپتال یا بحالی مرکز پر کیا گیا، بلکہ شواہد اس کے برعکس منظر پیش کر رہے ہیں

editor

Related Articles