عوام کیلئے نئی آزمائش، بجلی مزید مہنگی

عوام کیلئے نئی آزمائش، بجلی مزید مہنگی

ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر مہنگائی کی نئی لہر آنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے کیونکہ مئی 2026 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیپرا کے مطابق یہ درخواست سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے جس پر باقاعدہ سماعت 30 جون کو ہوگی۔ سماعت کے بعد نیپرا درخواست کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کرے گا۔

ذرائع کے مطابق اگر نیپرا اس درخواست کی منظوری دے دیتا ہے تو ملک بھر کے بجلی صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اضافی چارجز آئندہ مہینوں کے بجلی بلوں میں وصول کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ میں مختص 838 ارب کن غریب فیملیوں میں اور کیسے تقسیم ہوں گے؟

سی پی پی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مئی 2026 کے دوران بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی اوسط لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی، جس کے باعث فیول لاگت میں فرق پیدا ہوا اور صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

 فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا نظام بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی عالمی اور مقامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو صارفین تک منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت ہر ماہ بجلی کی پیداواری لاگت کا جائزہ لے کر نرخوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔

 فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے اطلاق سے بعض مخصوص کیٹیگریز کے صارفین مستثنیٰ بھی ہو سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات نیپرا کے فیصلے کے بعد سامنے آئیں گی۔

نیپرا کی 30 جون کو ہونے والی سماعت کے بعد یہ واضح ہوگا کہ بجلی صارفین کو فی یونٹ 82 پیسے اضافی ادا کرنا ہوں گے یا نہیں  تاہم مجوزہ اضافے نے پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

editor

Related Articles