پاکستان کے شہر ڈیرہ غازی خان میں بجلی کے بڑھتے مسائل اور بھاری بلوں سے تنگ شہریوں نے بڑی تعداد میں سولر سسٹمز کا رخ کر لیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق شہر میں بیشتر گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں چھتیں بھی سولر پلیٹس سے بھر چکی ہیں۔ شہری اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے اور بڑے سولر سسٹمز لگا رہے ہیں تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگے بلوں سے نجات حاصل کی جا سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گھنٹوں جاری رہنے والی لوڈشیڈنگ، بجلی کے بڑھتے نرخ اور ماہانہ بھاری بلوں نے انہیں متبادل توانائی کی طرف جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ کئی خاندان اب اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سولر پر انحصار کر رہے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں سولر پینلز کی بڑھتی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عام صارفین توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے خود اقدامات کر رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق جس شخص کی جتنی مالی استطاعت ہے، وہ اسی حساب سے سولر سسٹم نصب کر رہا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق سولر توانائی کا بڑھتا استعمال بجلی کے نظام میں تبدیلی کی علامت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی تقسیم کے نظام، نیٹ میٹرنگ پالیسی اور توانائی کے مستقبل کے حوالے سے بھی متوازن حکمت عملی ضروری ہے۔