پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کب اور کتنے سال کے لیے لیز پر حاصل کیا گیا؟

پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کب اور کتنے سال کے لیے لیز پر حاصل کیا گیا؟

اسلام آباد میں خیبر پختونخوا حکومت کے زیر تصرف ’’پختونخوا ہاؤس‘‘ جس کو ’’کے پی ہاؤس‘‘ بھی کہا جاتا ہے کی لیز سال 2006 میں ختم ہونے کے باوجود گزشتہ اٹھارہ سال میں کسی بھی صوبائی حکومت نے اس کی باضابطہ توسیع کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے پاس معاہدے کی کاپی کے علاوہ دیگر کسی بھی قسم کی کوئی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ کچھ روز قبل وفاقی حکومت کی جانب سے ’’خیبر پختونخوا ہاوس‘‘ کے سیل کیے جانے کے بعد صوبائی محکمہ ایڈمنسٹریشن نے کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے دستاویزات کے حصول کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ ’’خیبر پختونخوا ہاؤس‘‘36 ہزار 784 گز پر یعنی 60 کنال 8 مرلہ پر محیط یہ اراضی 1973 میں صوبائی حکومت کو 99 سال لیز پر دی گئی تھی۔ تاہم ہر 33 سال بعد لیز میں توسیع ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام اباد احتجاج: توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کو شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ

دو جون 1973 کو کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے یہ اراضی اُس وقت کے صوبہ سرحد کے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو لیز پر دی تھی۔ اس وقت اسے ’’فرنٹیئر ہاؤس‘‘ کہا جاتا تھا جو صوبائی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے زیر انتظام تھا۔ لیکن 1995 میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے اس کو محکمہ ایڈمنسٹریشن کے حوالے کر دیا۔ آزاد ڈیجٹیل کے پاس موجود معاہدے کی کاپی کے مطابق ایک گز کا کرایہ 30 روپے سالانہ مقرر کیا گیا تھا جو 11لاکھ 3 ہزار 520 روپے سالانہ بنتے تھے۔ اراضی پہلے 33 سال کے لیے الاٹ کی گئی تھی جس میں مزید دو مرتبہ توسیع ہو سکتی ہے۔ معاہدے کے مطابق پہلی لیز ختم ہونے کے بعد کرایہ میں 20 فیصد اضافہ جبکہ دوسری مرتبہ لیز ختم ہونے کے بعد کرایہ میں 40 فیصد اضافہ کی شرط رکھی گئی ہے۔ سی ڈی اے کی جانب سے یہ اراضی باقاعدہ طور پر 19 مارچ 1974 کو خیبر پختونخوا حکومت کےحوالے کر دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق معاہدے میں توسیع محکمہ ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری تھی جس نے اس کے لیے درکار کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے ’’پختونخوا ہاؤس‘‘ سیل ہونے کے بعد محکمہ ایڈمنسٹریشن متعلقہ ضروری کاغذات کے لیے متحرک ہو گیا ہے لیکن تاحال یہ صرف معاہدے کی کاپی ہی حاصل کر پایا ہے۔

مزید پڑھیں: جو بھی پی ٹی ایم کی مدد کرے گا اس کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کینسل ہوں گے، وزیر داخلہ محسن نقوی

’’خیبر پختونخوا ہاؤس‘‘ کے تین بلاکس ایس ون، ایس ٹو اور اولڈ بلاک میں 55 کمرے ریزرویشن کے لیے مختص ہیں، وزیر اعلیٰ انیکسی، گورنر انیکسی جو گورنر سے لی گئی ہے، آٹھ افسروں کے کواٹرز، بیچلر کوارٹرز اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے الگ بلاک ہے جو سابق صوبائی وزیر محمود خان دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ لیکن اس کی باقاعدہ اجازت متعلقہ محکمہ سے نہیں لی گئی۔ رابطہ کرنے پر ڈپٹی سیکرٹری ایڈمنسٹریشن شکیل احمد گیگیانی نے آزاد ڈیجیٹل کو بتایا کہ دستاویزات کے حصول کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ کئی ایک وجوہات کی بنا پر معاہدے کی توسیع میں تاخیر ہوئی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *