خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد پر حملے کی تحقیقات اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دی گئی۔
کمیٹی نے سیکرٹری ایڈمن کو ایف آئی آر کے اندراج کے لیے خط لکھ دیا ہے۔ کمیٹی نے دس دن گزرنے کے باوجود قانونی کارروائی عمل میں نہ لانے پر صوبے کی بیوروکریسی کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بدھ کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کے دوران چیئرپرسن سپیشل کمیٹی منیر حسین لقمانی نے کے پی ہاؤس اسلام آباد حملے سے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ پی پی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے، کافی چیزیں سامنے آئیں اور ہم نے متفقہ طور پر سفارشات مرتب کی ہیں۔
پانچ تاریخ کو واقعہ ہوا اور پندرہ تاریخ کو ہماری میٹنگ ہوئی، کے پی ہاؤس کی انتظامیہ سہمی ہوئی تھی۔ ہمیں چاہیے کہ کے پی ہاؤس میں اپنی فورس تعینات کریں اور اسلام آباد میں ریڈ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے۔ کسی افسر کو یہ زحمت نہ ہوئی کہ روزنامچہ کرتا۔ چیئرپرسن نے سیکرٹری ایڈمن کو خط بھیجا ہے کہ کریمینل پروسیجر شروع ہونی چاہیے۔ اگر آپ کے گھر حملہ ہوتا ہے اور آپ اتنے سہمی ہوئے ہیں کہ ایک روزنامچہ رپورٹ بھی درج نہ ہو تو یہ ہماری بدقسمتی ہے۔
پانچ تاریخ سے لے کر پندرہ تاریخ تک بیوروکریسی بشمول چیف سیکرٹری اور ایڈمن حرکت میں نہیں آئے، کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ حکومت کا کام تھا کہ فی الفور ایکشن لیتی، خدارا باتوں کو ہلکا نہ لیا جائے، اسی وجہ سے فاٹا ہاؤس ہم سے چلا گیا۔ اس موقع پر سپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ یہ بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ اس ہاؤس کے اندر وزیراعلیٰ، ایم پی اے، وزراء، فیملیز، اور ججز کے کیمرے تھے۔ اس ہاؤس پر ادارے کا حملہ، توڑ پھوڑ، تشدد، اور چوریاں ہونے کے باوجود کوئی ایف آئی آر نہیں ہوتی۔
کے پی ہاؤس کے اندر کا ایریا صوبے کی سرزمین ہے، ایک ایف آئی آر اسلام آباد اور دوسری ایف آئی آر پشاور میں لانچ کی جائے۔ اگر ہم اپنی تحفظ نہیں کرسکتے تو عام آدمی کی سیکیورٹی کیسے یقینی بنائیں گے، یہ ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے چیئرپرسن سے کہا کہ آپ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلائیں، اگر انہوں نے ایکشن نہ لیا۔ ایم پی اے ہمایون نے کہا کہ ہم گواہی دینے کو تیار ہیں۔
وزیراعلیٰ کا خیال تھا کہ ہم کے پی ہاؤس میں جا کر مشورہ کریں گے۔ اگر ایک وزیراعلیٰ کو گیٹ کی بندش کا پتہ نہ ہو، تو یہ اس طرح ہوا کہ ہم کسی غیر کے گھر جا رہے ہیں۔ عملے کو چاہیے تھا کہ اطلاع دیتے۔ جے یو آئی رکن عدنان خان نے کہا کہ کے پی ہاؤس پر حملہ ہماری عزت پر حملہ ہے۔ جن کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، وہ کیوں تحریک استحقاق نہیں لارہے؟ آپ لوگ کیوں ڈرے ہوئے ہیں؟ دس دن گزر گئے لیکن افسران خاموش ہیں، یہ مذاق بند ہونا چاہیے۔
اپنی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ کمیٹی رپورٹ پر چیئرپرسن کو داد دیتا ہوں۔ فاٹا ہاؤس پر فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔ چیئرپرسن منیر لقمانی نے کہا کہ یہ ابتدائی رپورٹ ہے، حتمی رپورٹ میں ہم نے کے پی ہاؤس کے عملے اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنی ہے۔ تمام چیزیں کمیٹی کو پیش کی جائیں تاکہ فائنل رپورٹ مرتب کی جا سکے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ فاٹا ہاؤس کا معاملہ بھی کمیٹی دیکھے گی اور سفارشات مرتب کرے گی۔
جائزہ لیا جائے گا کہ کے پی ہاؤس حملے میں کہاں کہاں کوتاہیاں ہوئیں اور کون اس میں ملوث تھے۔ یہ کریمینل اور سول لائبیلٹی ہے، یہ حملہ کے پی ہاؤس پر نہیں بلکہ صوبے کے عوام پر تھا۔ آئی جی کو ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد اور پشاور میں ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے۔ کے پی ہاؤس کا بڑا نقصان ہوا ہے، جس کی ابتدائی رپورٹ سی این ڈبلیو سے لی ہے۔ سول لائبیلٹی کے خلاف بھی کریمینل پروسیڈنگ کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ یہ ہماری عزت کا سوال ہے، وزیراعلیٰ کی بے عزتی کی گئی، صوبے کی ملکیت پر حملہ ہوا ہے۔ سیکرٹری ایڈمنسٹریشن کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بریف کریں۔