کراچی کے مختلف علاقوں میں خناق کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےاور اس خناق سے بچوں کی اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
محکمۂ صحت سندھ کے حکام کے مطابق خناق کی بیماری سے حفاظتی ٹیکے سے بچاؤ ممکن ہے، کراچی میں اب تک خناق سے 100 سے زیادہ بچے انتقال کر چکے ہیں۔محکمہ صحت سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ پچھلےسال سندھ انفیکشس ڈزیزز اسپتال میں خناق کے 140 کیسز آئے جن میں سے 52 انتقال بچے کر گئے۔محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق کراچی میں خناق کے تمام کیس سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال کو بھیجے جا رہے ہیں، سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال میں اس وقت بھی خناق کے 12 سے زائد بچے زیرِ علاج ہیں۔
مزید پڑھیں: غیر مصدقہ خبر کا معاملہ ، راولپنڈی میں بھی طلباء سڑکوں پر نکل آئے
انفیکشس ڈیزیزز ماہرین نے کہا ہے کہ کراچی اور سندھ بھر میں خناق کے علاج کی دوا اینٹی ٹاکسن موجود نہیں، خناق سے متاثر ایک بچے کے علاج پر دو سے ڈھائی لاکھ روپے کا اینٹی ٹاکسن استعمال ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خناق سے بچاؤ کا واحد علاج مکمل ویکسینیشن اور بیماری کا علاج اینٹی ٹاکسن دینا ہے۔

