ٹرمپ کا ’ایران مشن‘ معاشی دلدل میں پھنس گیا، امریکی صدر کے لیے نئی مشکلات کھڑی، اہم رپورٹ سامنے آگئی

ٹرمپ کا ’ایران مشن‘ معاشی دلدل میں پھنس گیا، امریکی صدر کے لیے نئی مشکلات کھڑی، اہم رپورٹ سامنے آگئی

ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک ایسا بحران کھڑا کر دیا ہے جس نے واشنگٹن کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک طرف فوجی محاذ پر تہران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب امریکا کے اندر معاشی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کی طرف سے ایرانی جہاز قبضہ میں لیے جانے پر چین کا بھی سخت ردعمل آگیا

پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بے لگام مہنگائی اور عوامی مقبولیت میں ریکارڈ کمی نے صدر ٹرمپ کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس تنازع کا جلد از جلد کوئی سفارتی حل تلاش کریں۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری 2026 کو اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی اس جنگ کے باوجود ایران کی مذہبی قیادت کو ہٹایا جا سکا اور نہ ہی اسے امریکی شرائط کے سامنے جھکایا جا سکا ہے۔

ایرانی قیادت نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے عالمی توانائی مارکیٹ کو اس حد تک متاثر کیا کہ اب خود امریکی صارفین چیخ اٹھے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو دنیا ایک بدترین کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی۔

سیاسی طور پر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات صدر ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا امتحان ثابت ہو رہے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنی معمولی برتری کھونے کے خوف سے صدر پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ‘ڈیل’ کی طرف بڑھیں۔

 دوسری جانب، یورپی اور ایشیائی اتحادی ممالک بھی اس بات پر برہم ہیں کہ امریکہ نے انہیں اعتماد میں لیے بغیر اس مہنگی جنگ کا آغاز کیا، جس کے معاشی اثرات اب پوری دنیا بھگت رہی ہے۔

مزید پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا مثبت کردار، وزیرِاعظم، فیلڈ مارشل کو بہت زیادہ کریڈٹ دینا چاہتا ہوں، جے ڈی وینس

 اگرچہ وائٹ ہاؤس نے جلد معاہدہ ہونے کے اشارے دیے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ آج بھی رک جائے تو امریکی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے میں کئی سال درکار ہوں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری 2026 کو ایران کے جوہری پروگرام کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے ساتھ مل کر حملوں کا آغاز کیا تھا۔

ابتدا میں وائٹ ہاؤس کا خیال تھا کہ چند ہفتوں کی فضائی بمباری سے ایرانی حکومت مفلوج ہو جائے گی اور عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے، لیکن ایسا نہ ہوا۔ ایران نے ‘غیر روایتی جنگ’ کی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے آبنائے ہرمز کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی تیل کی ترسیل رک گئی اور قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔

 20 اپریل 2026 تک کی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ فوجی طور پر برتر ہونے کے باوجود اپنے ہی گھر میں معاشی محاذ پر ہار رہا ہے۔ چین اور روس جیسے حریف ممالک اس صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ امریکی عسکری طاقت کو معاشی حصار کے ذریعے غیر موثر کیا جا سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *