پنجاب کے مختلف شہروں بالشمول لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ ، راولپنڈی اور دیگر علاقے آجکل شدید سموگ کی لپیٹ میں ہیں جس کی بنیادی وجہ درختوں کی مسلسل کٹائی اور روز بروز گاڑیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ دھواں ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران سموگ کی شدت میں ہر سال اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں شدید اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور لاہور، فیصل آباد اور وسطی پنجاب کے بڑے شہروں سے سموگ اب جنوبی پنجاب کے بڑے شہروں ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی تک شدت اختیار کر چکی ہے۔
تازہ ترین ائیر کوالٹی انڈیکسکے مطابق آج مورخہ 11 اکتوبر کو ملتان میں فضائی آلودگی کا ائیر کوالٹی انڈیکس 752 کیساتھ پنجاب میں پہلے نمبر ریکارڈ کیا گیا جبکہ لاہور 708 ائیر کوالٹی انڈیکس کیساتھ دوسرےاور پشاور 594 ائیر کوالٹی انڈیکس کیساتھ ملک کا تیسرا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔
جبکہ دن کے اوقات میں فیصل آباد بھی ائیر کوالٹی انڈیکس کے حوالے سے پہلے تین نمبرز رہتا ہے۔ پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں ہاوسنگ سوسائٹیز کے لیے اور دیگر میگا پراجیکٹس کے لیے درختوں کی مسلسل کٹائی سموگ میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے،۔
اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ جنگلات پنجاب نے 2023 میں دو کروڑ درخت اہنے اہداف سے کم لگائے ہیں، دوسری جانب صوبے کے تمام بڑے شہروں میں جنگلات کی زمین پر مقامی اور بڑے مافیاز سے قبضے کیئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات کا محکمہ قابض عناصر سے یہ زمینیں واگزار کروانے میں ناکام رہنے اور خاطر خواہ انداز میں درخت نہ لگانے کے سبب ماحولیات آلودگی بڑھنے کا سبب بتاتےہیں۔
اس کی ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی فضائی آلودگی ، جو گاڑیوں کے دھویں سے بڑھتی ہے، فضا میں سموگ کےبڑھنےکی دوسرئ بڑی وجہ ہے۔ اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق گاڑیو ں کا دھواں سموگ میں اضافے کا 83 فیصد وجہ کا باعث ہے، جبکہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے نے سموگ کی شدت میں چار فیصد تک اضافہ ہوتاہے،۔
اسی طرح صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے سموگ کی شدت میں 10 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔اور بڑے شہروں میں کچرا جلانے کے سبب سے سموگ کی شدت میں چار فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔