عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) سے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک ارب ڈالر اضافی رعایتی قرض کے حوالے سے آئی ایم ایف مشن مزاکرات کیلئے آج پاکستان پہنچےگا۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) سے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک ارب ڈالر اضافی رعایتی قرض پروگرام بارے مذاکرات کے لیئے آئی ایم ایف مشن نیتھن پورٹر کی سربراہی میں آج پاکستان پہنچے گا۔آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام کے مابین منگل سے مذاکرات کا آغاز ہوگا اورآئی ایم ایف کا وفد 15 نومبر تک پاکستان میں قیام کریگا۔
آئی ایم ایف سے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے نئے رعائیتی قرضے سے متعلق مذاکرات ہونگے۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ آئی ایف ایف کلائیمیٹ فنانسنگ کی درخواست دی تھی، کلائیمیٹ فنانسنگ کے تحت پاکستان معیشت کا ایک فیصد موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق خرچ کریگا۔اس موقع پر آئی ایم ایف کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سےترقیاتی بجٹ پر بریفنگ دی جائیگی۔
موسمیاتی تبدیلی کے لیئے مختص بجٹ اور استعمال کے فریم ورک کی تیاری پر گفتگو ہوگی، آئی ایم ایف کیساتھ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے صوبائی بجٹ سے متعلق بھی گفتگو ہو گی۔آئی ایم ایف کیساتھ موجودہ قرض پروگرام اور ابتداعی جائزہ رپورٹ بارے بریفنگ دی جائیگی۔
آئی ایم ایف سے جولائی تا ستمبر ٹیکس شارٹ فال اورٹیکس آمدن سے متعلق بھی بات چیت ہوگی۔صوبوں کے گزشتہ چار ماہ کے سر پلس بجٹ اور وفاق کے مالیاتی خسارے پر بھی بات چیت ہوگی۔آئی ایم ایف سے صوبوں میں زرعی آمدن بڑھانے کے حوالے سے مشاورت بارے بھی بات چیت متوقع ہے۔
آئی ایم ایف کی وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے حوالے سے صوبوں کی کارکردگی بارے بھی آئی ایم ایف وفد سے بات چیت پروگرام کا حصہ ہے۔