اسرائیل جنوبی لبنان سے فوراً نکل جائے ورنہ سال 2000 جیسا عبرت ناک انجام ہوگا، اسماعیل قانی

اسرائیل جنوبی لبنان سے فوراً نکل جائے ورنہ سال 2000 جیسا عبرت ناک انجام ہوگا، اسماعیل قانی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور زمینی جارحیت کے تناظر میں ایران نے اسرائیل کو ایک بار پھر سخت ترین لہجے میں خبردار کر دیا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں کے ذمے دار ونگ ‘قدس فورس’ کے سربراہ کمانڈر اسماعیل قانی نے اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری اور غیر مشروط انخلا کی وارننگ جاری کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر صیہونی فورسز نے لبنان کی سرزمین کو فوری طور پر خالی نہ کیا تو انہیں سال 2000 میں ہونے والے ذلت آمیز اور غیر مشروط انخلا جیسے بھیانک انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ اور اسماعیل قانی کا سوشل میڈیا بیان

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک خصوصی بیان میں صیہونی قیادت کو براہِ راست مخاطب کیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی دھمکیوں کے باوجود اسرائیل کے دفاع سے دستبردار نہیں ہوں گے: برطانوی وزیراعظم

انہوں نے لکھا کہ ’اگر اسرائیل اپنی جارحیت، ہٹ دھرمی اور ناجائز قبضے سے باز نہ آیا تو اسے انتہائی ذلت اور تاریخی شکست کے ساتھ اس خطے سے مار بھگایا جائے گا‘۔

ایرانی کمانڈر نے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اگر تم اپنی مرضی سے جنوبی لبنان سے نہ نکلے تو سال 2000 کی وہی تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی، جب تم اس سر زمین سے ذلت کے ساتھ فرار ہونے پر مجبور ہوئے تھے، اب فیصلہ سراسر تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے‘۔

لبنان کا ’لبریشن ڈے‘ اور 22 سالہ صیہونی قبضہ

ایرانی کمانڈر کے اس بیان کا ایک گہرا تاریخی پس منظر ہے جس کی یادیں آج بھی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر اثر انداز ہیں۔

لبنان میں ہر سال 25 مئی کو ‘لبریشن ڈے’ (یومِ آزادیِ لبنان) کے طور پر منایا جاتا ہے، جو سال 2000 میں لبنانی مزاحمتی تحریک کے شدید دباؤ کے نتیجے میں اسرائیلی افواج کے جنوبی لبنان سے اچانک اور غیر مشروط انخلا کی یاد میں منایا جانے والا ایک انتہائی اہم قومی دن ہے۔

اس تاریخی انخلاء کو لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کی 22 سالہ طویل اور ناجائز موجودگی کے خاتمے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے خطے کی جدید تاریخ میں ایک بہت بڑا اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا جاتا ہے۔

قدس فورس کی وارننگ

جنوبی لبنان کی موجودہ صورتحال اور اسماعیل قانی کا یہ بیان محض ایک زبانی دھمکی نہیں، بلکہ یہ تہران کی جانب سے اسرائیل اور اس کے عالمی سرپرستوں کو دیا جانے والا ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے۔

مزید پڑھیں:ایران دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا ملک نہیں، ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے، محمد باقر قالیباف

سال 2000 کا حوالہ دے کر ایران نے یہ یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور فضائی برتری کے باوجود، اسرائیل طویل عرصے تک گوریلا جنگ اور مقامی مزاحمت کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔

سیاسی اور عسکری لحاظ سے، یہ بیان اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں موجود ‘محورِ مزاحمت’ (ریزسٹنس الائنس) جنوبی لبنان کے محاذ پر کسی بھی قسم کی پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسرائیل اس وقت بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے اور لبنان میں زمینی دلدل اس کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

اسماعیل قانی کا یہ کہنا کہ ‘فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے’، اسرائیل کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کا نقصان صرف لبنان کو نہیں بلکہ خود اسرائیل کے وجود کو پہنچے گا۔ یہ بیان آنے والے دنوں میں لبنانی سرحد پر عسکری کارروائیوں میں مزید تیزی آنے کا واضح اشارہ ہے۔

Related Articles