ہر پاکستانی شہری پیدائش سے اب تک کتنے لاکھ کا مقروض ہے ؟ اعداد و شمار نے چونکا دیا

ہر پاکستانی شہری پیدائش سے اب تک کتنے لاکھ کا مقروض ہے ؟ اعداد و شمار نے چونکا دیا

حیران کن طور پر ہر پاکستانی شہری اب اوسطاً 3 لاکھ 33 ہزار روپے کا مقروض ہے ، گزشتہ مالی سال کے دوران اس رقم میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ماہرین معیشت نے ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں کو ایک سنگین معاشی چیلنج قرار دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر قرضوں کا یہی سلسلہ جاری رہا تو اس کے عام شہری کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان میں عوامی قرضوں کا حجم بڑھ کر 80.5 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، یہ رقم ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 70 فیصد کے برابر بنتی ہے، دوسری جانب مجموعی قرضوں کا حجم 97 ہزار 307 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو ایک سال قبل 89 ہزار 774 ارب روپے تھا۔

فی پاکستانی قرضہ کیوں تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ہر پاکستانی کے ذمے قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ، یوں فی پاکستانی قرضہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے بڑھتے مالی اخراجات، قرضوں کی ادائیگیوں پر بڑھتا دباؤ اور محدود محصولات اس رجحان کی بڑی وجوہات ہیں۔ اسی لیے قرضوں میں مسلسل اضافہ ملکی مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

قرضوں کا بوجھ عام شہری پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر پاکستانی کی اوسط سالانہ آمدنی تقریباً 5 لاکھ 32 ہزار روپے ہے،  اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شہری کی سال بھر کی کمائی کا بڑا حصہ قرض کے بوجھ کے برابر ہو چکا ہے۔

اگرچہ یہ قرض براہ راست ہر فرد سے وصول نہیں کیا جاتا، تاہم اس کے اثرات مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافے، ترقیاتی منصوبوں میں کمی اور عوامی خدمات پر دباؤ کی صورت میں سامنے آتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ معاشی ماہرین عوامی قرضوں میں اضافے کو مستقبل کے لیے تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ہر پاکستانی کتنے روپے کا مقروض ہو چکا ؟ حیران کن رپورٹ سامنے آ گئی

دستاویزات کے مطابق پاکستان کی مجموعی معیشت یا جی ڈی پی تقریباً 127 ہزار ارب روپے ہے جبکہ قرضوں کا تناسب 76 فیصد تک پہنچ چکا ہے، ماہرین نے اس صورتحال کو عام فہم انداز میں یوں بیان کیا کہ اگر پاکستان کو ایک گھر تصور کیا جائے تو اس گھر کی آمدنی 127 روپے جبکہ قرض 76 روپے کے برابر بنتا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق قرض اور آمدنی کے درمیان بڑھتا فرق مستقبل میں حکومت کے لیے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا مزید مشکل بنا سکتا ہے،  اس کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبے، روزگار کے مواقع اور عوامی فلاح کے پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فی پاکستانی قرضہ اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو حکومت کو آئندہ برسوں میں مزید سخت مالی فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں،  اس سے نہ صرف معیشت بلکہ عام شہری کی قوتِ خرید بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

بڑھتے ہوئے قرضوں کے یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو مالی استحکام کے لیے مؤثر معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافہ اور قرضوں کے بہتر انتظام کی اشد ضرورت ہے، ورنہ فی پاکستانی قرضہ آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتا ہے۔

editor

Related Articles