اسلام آباد ہائی کورٹ میں معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کے مرکزی ملزم عمر حیات کی جانب سے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل ہو گئی ہے، جس کے بعد چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
دورانِ سماعت ملزم عمر حیات کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ (ماڈل کورٹ) کا رویہ ان کے ساتھ درست نہیں ہے اور ان کی عدم موجودگی میں سرکاری وکیل مقرر کر کے گواہ پر جرح مکمل کر لی گئی۔ انہوں نے استدعا کی کہ ٹرائل جج پر اعتماد نہیں ہے، اس لیے کیس منتقل کیا جائے اور انہیں گواہوں پر دوبارہ جرح کا موقع دیا جائے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ملزم کے وکیل کے رویے پر استفسار کیا کہ ’اگر آپ کا ٹرائل کورٹ کے ساتھ یہی رویہ رہا تو عدالت کیسے چلے گی؟‘ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ماڈل کورٹ کا مقصد کیسز کا جلد فیصلہ کرنا ہے اور یہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کام کر رہی ہے۔
مدعی مقدمہ کے وکیل نے کیس کی منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 10 ماہ گزرنے کے باوجود ملزم کے وکیل مختلف حیلے بہانوں سے التوا مانگ رہے ہیں اور 6 ماہ میں صرف 2 گواہوں پر جرح مکمل ہو سکی ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو کہ جلد سنائے جانے کا امکان ہے۔
ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس اسلام آباد کے ہائی پروفائل کیسز میں سے ایک ہے، جس کی سماعت ماڈل کورٹ میں جاری ہے۔ ماڈل کورٹس کا قیام فوری انصاف کی فراہمی کے لیے عمل میں لایا گیا تھا جہاں روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوتی ہے۔
ملزم کی جانب سے جج پر عدم اعتماد اور کیس منتقلی کی درخواست کو عموماً قانونی حلقوں میں ٹرائل کو طول دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم عدالتِ عالیہ اب یہ طے کرے گی کہ کیا ٹرائل کورٹ کا کنڈکٹ واقعی جانبدارانہ تھا یا یہ محض ایک دفاعی حکمتِ عملی ہے۔