توانائی کے میدان میں پاکستان نے ایک ایسا کارنامہ انجام دے دیا ہے جس نے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے اور ماہرین اسے گیم چینجر قرار دے رہے ہیں۔
نشپا بلاک کے باراگزئی ایکس-1 کنویں سے تیل اور گیس کی کمرشل پیداوار کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا افتتاح وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسے پاکستان کی توانائی خودمختاری کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا۔حیران کن اعداد و شمار کے مطابق اس کنویں سے یومیہ 15 ہزار بیرل تیل اور 45 ملین مکعب فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے، جو مستقبل میں بڑھ کر 25 ہزار بیرل تیل اور 60 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ نہ صرف ملک میں توانائی کی قلت کو کم کرے گا بلکہ صنعتی پہیہ بھی تیز کرے گا۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان کو سالانہ تقریباً 329 ملین ڈالرز کا قیمتی زرمبادلہ بچانے میں مدد ملے گی، جو موجودہ معاشی حالات میں کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں۔
او جی ڈی سی کی اس بڑی دریافت کو توانائی بحران کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اسی رفتار سے نئی دریافتیں جاری رہیں تو پاکستان جلد ہی درآمدی ایندھن پر انحصار میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک شدید توانائی چیلنجز سے دوچار ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کامیابی کو نہ صرف معاشی بلکہ اسٹریٹیجک سطح پر بھی ایک بڑی جیت تصور کیا جا رہا ہے۔