جماعت اسلامی کا ڈی چوک واقعے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

جماعت اسلامی کا ڈی چوک واقعے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد بھی قابل مذمت ہے اورحکومت سے ڈی چوک واقعہ پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ۔

تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ پاکستان کے مالک اس کے عوام ہیں، عوام کی آواز نہ دبائی جائے، احتجاجی مظاہرین پرشیلنگ اورلاٹھی چارج کیوں کیا گیا، وزیرداخلہ محسن نقوی مستعفیٰ ہوں۔ امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ڈی چوک احتجاج کے معاملے پر بااختیار جوڈیشل کمیشن بننا چاہئے، لیڈرز سیاسی کارکنان کو چھوڑ کر خود سائیڈ پکڑ لیتے ہیں، سیاسی ورکرز کسی ایک جماعت کا نہیں قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ سیاسی ورکرز اتنی آسانی سے تیار نہیں ہوتے، سیاسی کارکن سڑک پرنکلتا ہے تو وہ قوم کے ماتھے کا جھومر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو کچھ کیا اس پر سب کو ملکر آواز اٹھانی چاہئے، افسوس ہے بلوچستان اسمبلی نے پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد منظور کی۔

حافظ نعیم نے مزید کہا کہ یہ آمرانہ طرزعمل ہے جمہوریت نہیں ہے، ایک زمانے میں جماعت اسلامی پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، عوام کی آواز بند کرنے کا عمل قابل مذمت ہے۔  امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہ کہ 26 نومبر کو ہونے والے واقعات کی تحقیقات ہونی چاہئیں، پارٹیاں بھی خاندانوں سے آزاد ہونی چاہئیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *