چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی احتجاج کی کال فائنل ہے، احتجاج کال آف والی کوئی بات نہیں ہے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کی احتجاج کی کال فائنل ہے، احتجاج کال آف والی کوئی بات نہیں ہے۔ صحافی کے سوال پر کہ مذاکرات کس مرحلے پر ہیں، بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ وہ چل رہے ہیں، انشاء اللہ آپ کو اس کے بارے میں بتائیں گے۔
واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی لیڈرشپ کی عمران خان سے طویل ملاقات ختم ہوگئی۔ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے پی ٹی آئی وفد کی 2 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی۔ ملاقات کرنیوالے وفد میں چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف شامل تھے۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان بھی اس موقع پر اڈیالہ جیل پہنچے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے کی اور پارٹی رہنمائوں نے عمران خان کو اعتماد میں لیا۔
دوسری جانب عمران خان، بشریٰ بی بی سمیت پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کیخلاف مزید مقدمات درج کروادیے گئے۔
عمران خان، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے خلاف ایک مقدمہ تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں صدر عارف علوی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور، شہریار ریاض، حماد اظہر اور اسد قیصر بھی نامزد ہیں۔ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں ڈکیتی، اقدام قتل اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات شامل ہیں۔
مقدمے کی متن میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنی بہن علیمہ خان کے ذریعے عوام کو 24 نومبر کے احتجاج کے بارے میں پیغام دیاجبکہ بشریٰ بی بی نے 19 نومبر کے ویڈیو پیغام میں پارٹی کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی اپیل کی۔ مقدمے کے مطابق ملزمان نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مجمع اکٹھا کیا اور سرکاری کام میں مداخلت کی۔
فیصل آباد میں بھی تحریک انصاف کی قیادت کیخلاف مزید مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ تھانہ نشاط آباد میں عمران خان، بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا۔
اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی، کار سرکار میں مداخلت اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے مقدمے میں عمر ایوب اور عارف علوی سمیت 38 افراد کے نامزد ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اب تک عمران خان کے خلاف 4جبکہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے خلاف 2، 2 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔