ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طے شدہ مفاہمت کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری طور پر جنگی کارروائیاں معطل کر دی جائیں گی۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ طے پانے والے معاہدوں کے مطابق آج رات سے خطے کے تمام محاذوں پر فوجی سرگرمیاں مستقل طور پر روک دی جائیں گی، جس سے کشیدگی میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں امن کی بحالی اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی، جس میں معاہدے کی حتمی توثیق کی جائے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آئندہ مرحلے کے مذاکرات اس وقت تک معطل رہیں گے جب تک دوسرے فریق کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کے تحت تمام ذمہ داریوں کی تکمیل یقینی نہیں بنائی جاتی۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ ان دونوں ممالک نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف عالمی طاقتیں بھی سرگرم تھیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اور قطر کی سفارتی کاوشوں کو خطے میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو امن کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے