امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا اور ایران کی قیادت کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ ہی پائیدار امن کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
انتونیو گوتریس نے معاہدے تک پہنچنے کے عمل میں کردار ادا کرنے والے ممالک کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کی سفارتی کاوشوں کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سیکریٹری جنرل کے مطابق معاہدے کے نتیجے میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگی جس سے خطے میں انسانی جانوں کے تحفظ اور استحکام کے امکانات روشن ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیوں کی بحالی عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
اقوام متحدہ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی روح کے مطابق اپنے وعدوں پر عمل کریں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنائیں۔ گوتریس کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اس پیش رفت کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے جس کے ذریعے خطے میں برسوں سے جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے مشترکہ بیان میں اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے سفارتی عمل کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ مختلف عالمی دارالحکومتوں میں اسے خطے میں استحکام اور عالمی معیشت کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔