صدر ٹرمپ کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’ناں‘ کہنا مشکل ہو جاتا ہے، سابق جنرل مارک کیمٹ

صدر ٹرمپ کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’ناں‘ کہنا مشکل ہو جاتا ہے، سابق جنرل مارک کیمٹ

امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اور سابق انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ جنرل مارک کیمٹ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات ہیں، جو خطے میں امن کی بحالی کے لیے اہم ثابت ہو رہے ہیں۔

‘الجزیرہ’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جب پاکستانی قیادت امن کے لیے اتنی سخت محنت کر رہی ہو، تو صدر ٹرمپ کے لیے اپنے دوست فیلڈ مارشل کی بات ٹالنا یا ’ناں‘ کہنا ممکن نہیں رہتا۔

مذاکرات کی میز پر واپسی

جنرل مارک کیمٹ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران دونوں ہی دوبارہ جنگ نہیں چاہتے اور یہ دونوں ممالک کی ضرورت بھی ہے کہ معاملات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے، اس لیے قوی امکانات ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ مذاکرات ضرور ہوں گے۔

 انہوں نے اشارہ دیا کہ آنے والے چند دنوں میں ایسی تجاویز سامنے آ سکتی ہیں جو فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لے آئیں گی۔ ان کے مطابق اگرچہ فریقین اپنی اپنی شرائط پر بضد ہیں، تاہم مذاکرات کے دوسرے دور کا قوی امکان موجود ہے۔

روس یوکرین جیسی صورتحال کا خدشہ

مذاکرات کے حوالے سے خوش گمانی کا اظہار کرتے ہوئے جنرل کیمٹ نے خبردار بھی کیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں سے جاری جنگ بندی کے باوجود بنیادی اختلافات میں تاحال کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے اس صورتحال کو روس اور یوکرین کی جنگ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران طویل ہو سکتا ہے۔

پاکستان حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی اور اب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذاتی دلچسپی اور امریکی صدر سے ان کے تعلقات کو اس تنازع کے خاتمے کے لیے ‘گیم چینجر’ قرار دیا جا رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *