سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی جانب سے ملازمین کی برطرفی اور غیر حاضری سے متعلق متضاد بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے وزارتِ تجارت کے سابق ملازم ارسلان احمد کی برطرفی کے خلاف کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقدمہ نئے سرے سے فیصلے کے لیے ٹربیونل کو واپس بھیج دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اہم قانونی سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’اگر کسی ملازم کو برطرف ہی کرنا ہے تو اس کی غیر حاضری کو چھٹی میں بدلنے کی کیا منطق ہے؟‘۔
درخواست گزار ارسلان احمد کو ڈیوٹی سے غیر حاضری کی بنیاد پر سروس سے برطرف کیا گیا تھا، جبکہ ان کا موقف تھا کہ اہلیہ کی شدید علالت اور کورونا کے باعث پروازوں کی بندش کی وجہ سے وہ بروقت جوائننگ نہیں دے سکے تھے۔
سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ برطرفی کے ساتھ ہی درخواست گزار کی غیر حاضری کے دورانیے کو بغیر تنخواہ کی چھٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جو کہ قانونی طور پر برطرفی کے جواز کو ختم کر دیتا ہے۔
تحریری فیصلے میں وفاقی حکومت کے متضاد مؤقف پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نے پہلے ٹربیونل میں اسے ایک ڈپٹی سیکریٹری کی غلطی قرار دیا، لیکن سپریم کورٹ میں تسلیم کیا کہ یہ تبدیلی سیکریٹری کامرس کی منظوری سے ہوئی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کے دونوں مؤقف ایک دوسرے کی نفی کر رہے ہیں اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کس پر یقین کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ فریقین کو سن کر 3 ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ دوبارہ کیا جائے۔
یہ کیس پاکستان کے سروس قوانین میں ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ عام طور پر سرکاری ملازمین کی طویل غیر حاضری کو ‘مس کنڈکٹ’ تصور کیا جاتا ہے جس کی سزا برطرفی ہوتی ہے۔
تاہم اگر محکمہ اس غیر حاضری کو ’رخصتِ اتفاقیہ‘ یا ’بغیر تنخواہ چھٹی‘ میں تبدیل کر دے، تو قانون کی نظر میں وہ دورانیہ ’غیر حاضری‘ نہیں رہتا بلکہ ’منظور شدہ چھٹی‘ بن جاتا ہے۔
ارسلان احمد کیس میں وزارتِ تجارت نے ایک طرف تو ان کی چھٹی منظور کی (جس کا مطلب تھا کہ ان کا عذر قبول کر لیا گیا) اور دوسری طرف انہیں اسی بنیاد پر نوکری سے نکال دیا۔
سپریم کورٹ نے اسی دہرے معیار کو ’رولز آف لاء‘ کے خلاف قرار دیا ہے۔ 23 اپریل 2026 کو سامنے آنے والا یہ فیصلہ نہ صرف ارسلان احمد کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ بیوروکریسی کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ تادیبی کارروائی کے دوران قانونی دستاویزات اور موقف میں تسلسل برقرار رکھا جائے۔