کویت حکومت کا بڑا ایکشن، ہزاروں افراد کی شہریت ختم کردی

کویت حکومت کا بڑا ایکشن، ہزاروں افراد کی شہریت ختم کردی

خلیجی ملک کویت نے اپنی اندرونی سیکیورٹی اور آبادی کے تناسب کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بار پھر بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مزید 2 ہزار سے زیادہ افراد کی کویتی شہریت منسوخ کر دی ہے۔

کویتی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، اس بار مجموعی طور پر 2,192 افراد کی شہریت منسوخ کی گئی ہے اور اس قانونی کارروائی کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن (اعلامیہ) کویت کے سرکاری گزٹ میں شائع کر دیا گیا ہے۔

شہریت جائزہ مہم

کویت میں گزشتہ 2 سال سے جاری ’شہریت جائزہ مہم‘ کے تحت اب تک ہزاروں افراد متاثر ہو چکے ہیں اور ان کی کویتی شہریت یکسر ختم کی جا چکی ہے۔

اس مہم کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سال 2025 میں بھی اسی قانون کے تحت تقریباً 50 ہزار افراد کی شہریت منسوخ کی گئی تھی۔

کویتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سخت ترین فیصلہ ان لوگوں کے خلاف کیا گیا ہے جنہوں نے ماضی میں مبینہ طور پر جعلی دستاویزات، غلط بیانی یا دہری شہریت چھپا کر غیر قانونی طریقوں سے کویت کی شہریت حاصل کی تھی، جس سے ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:کویت نے 15 سالہ ویزا پلان متعارف کروا دیا، عرب کے امیر ترین ملک جانے والوں کی چاندی

کویت میں ’شہریت جائزہ مہم‘ کا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب حکومت کو یہ شکایات موصول ہوئیں کہ ہزاروں افراد نے ماضی کی دہائیوں میں مختلف سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کویتی پاسپورٹ حاصل کر لیے تھے، جبکہ وہ قانوناً اس کے اہل نہیں تھے۔

کویت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ‘دہری شہریت’ (دو ممالک کا پاسپورٹ رکھنا) کی قانونی طور پر سخت ممانعت ہے۔ اگر کوئی کویتی شہری کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرتا ہے، تو اس کی کویتی شہریت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

سال 2025 میں 50 ہزار افراد کی شہریت کی منسوخی کویت کی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن (سخت کارروائی) تھا، اور اب سال 2026 میں مزید 2,192 افراد کا اس فہرست میں شامل ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

کویتی شہریت دنیا کی مہنگی ترین شہریتوں میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ کویتی شہریوں کو حکومت کی طرف سے مفت علاج، تعلیم، رہائشی زمین اور بھاری سماجی وظائف فراہم کیے جاتے ہیں۔

جعلی دستاویزات اور دہری شہریت کا خاتمہ

اس مہم کا بنیادی نشانہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے علاقائی اضلاع یا ہمسایہ ممالک سے آ کر جھوٹے نسب یا جعلی شواہد کے ذریعے خود کو کویتی شہری ثابت کیا تھا۔

حکومت کا یہ ایکشن ظاہر کرتا ہے کہ اب جدید ڈیجیٹل ڈیٹا بیس اور بائیو میٹرک نظام کے ذریعے پرانے ریکارڈز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، جس سے قانون کی بالادستی قائم ہو رہی ہے۔

قومی خزانے پر بوجھ میں کمی

چونکہ کویتی شہریوں کو ریاست کی طرف سے بے پناہ معاشی مراعات اور سبسڈیز حاصل ہوتی ہیں، اس لیے غیر قانونی طور پر شہریت حاصل کرنے والے لاکھوں افراد قومی خزانے پر ایک بڑا بوجھ تھے۔

سال 2025 میں 50 ہزار اور اب 2,192 مزید افراد کی منسوخی سے کویتی حکومت کو سالانہ اربوں دینار کی بچت ہوگی، جسے وہ اپنے حقیقی شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کر سکے گی۔

Related Articles