ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا۔
تہران سے جاری سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اب امریکا کو لبنان کے خلاف جنگ کے خاتمے کا وعدہ اور مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔
ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ کسی بھی خلاف ورزی کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ تہران کے خلاف یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔
اس سے قبل ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ امید ہے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے آغاز ہو گا۔
تہران میں سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور ممکنہ طور پر جمعے کو سوئٹزر لینڈ میں شروع ہو گا، ابتدائی مرحلے میں جنگ بندی اور علاقائی معاملات جبکہ بعد ازاں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں جوہری پروگرام، یورینیئم کی افزودگی اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے، جن کا مقصد ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے، مفاہمتی یادداشت میں ایک طرف امریکا اور اسرائیل ہیں، دوسری جانب ایران اورحزب اللّٰہ فریق ہیں۔