پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل میں اہم پیش رفت دیکھنے کو آئی ۔ پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کو اسپیکر آفس سے مذاکرات کے لیے گرین سگنل مل گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور پارٹی رہنما اسد قیصر نے اسپیکر آفس سے رابطہ کیا، جہاں پی ٹی آئی کو حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے گرین سگنل دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گرین سگنل کے بعد پی ٹی آئی نے ایوان کے بائیکاٹ کا فیصلہ بدل کر باقاعدہ شرکت کا فیصلہ کیا۔
پی ٹی آئی نے اپنے ٹی او آرز (Terms of Reference) تیار کرنا شروع کر دیے ہیں، جو مذاکرات کے ایجنڈے کے طور پر پیش کیے جائیں گے۔مذاکرات میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سیاسی مقدمات کے خاتمے پر بات چیت کی جائے گی۔
پی ٹی آئی اپنے ٹی او آرز اسپیکر آفس کو بھیجے گی، جو ان تفصیلات کو تحریری طور پر حکومت کو ارسال کرے گا۔ ان تفصیلات کی بنیاد پر حکومتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس کے قیام کا امکان اتوار تک ظاہر کیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کی عمران خان سے ملاقات متوقع ہےجو جمعہ کو اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل انتظامیہ سے بانی پی ٹی آئی سے مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات کی درخواست بھی دے دی ہے۔
مذاکراتی کمیٹی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، حامد خان، ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجا، علامہ راجا ناصر عباس، اور حامد رضا خان شامل ہیں۔ فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر مذاکرات ضروری ہیں اور یہ عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا چاہیے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔