امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ امن معاہدے اور اس میں پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار کے حوالے سے بھارت میں سیاسی اور میڈیا حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
مختلف بھارتی اپوزیشن رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور ذرائع ابلاغ نے اس پیش رفت کو پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے بعض رہنماؤں نے پاکستان کی ثالثی سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھارت کا کردار کمزور دکھائی دے رہا ہے۔
بھارتی اخبار دی ٹریبیون کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکرٹری جے رام رمیش نے کہا ہے کہ امریکا ایران معاہدے کو بعض حلقوں میں “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے طور پر بیان کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت کی موجودہ حکومت خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مغربی ایشیا کے سیاسی اورسیکیورٹی منظرنامے میں پاکستان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھارت کیلئے تشویش کا باعث ہے۔
بزنس سٹینڈرڈ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ خطے میں اسرائیل کی کارروائیوں کیلئے مودی سرکار کی حمایت خود بھارت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مودی کا ٹرمپ کے سامنے مسلسل خوشامد پسندانہ رویہ بھارت کیلئے شرمناک اورقومی مفادات کے منافی ہے۔
بھارتی میڈیا کے بعض تجزیوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مغربی ایشیا میں بدلتے ہوئے سیاسی و سیکیورٹی حالات کے تناظر میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھارت کے لیے ایک سفارتی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اور علاقائی تنازعات پر موقف کے باعث اسے اندرونی اور بیرونی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر سفارتی ناکامیوں کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی نااہلی کے باعث بھارت کو سفارتی،دفاعی اور بین الاقوامی تجارتی میدان میں مسلسل رسوائی کا سامنا ہے، پاکستان کوسفارتی تنہائی کا شکار کرنے کا خواب دیکھنے والی مودی سرکار آج خود دنیا بھر میں تنہائی کا شکار نظرآ رہی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق خطے میں کسی بھی بڑی پیش رفت کو مکمل طور پر ایک ملک کی کامیابی یا دوسرے کی ناکامی کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں متعدد عوامل کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا-ایران معاہدے جیسے معاملات میں مختلف ممالک کی شمولیت یا تاثر خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا حصہ ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے۔۔