روسی ایوانِ صدر کریملن کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے میں روس ثالث نہیں لیکن ضرورت پڑنے پر ہم مدد کے لیے تیار ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ اُمید ہے مذاکرات کا عمل جاری رہے گا، مذاکراتی عمل سے خطے اور عالمی معیشت کے لیے منفی نتائج سے بچا جا سکے گا۔
اس سے قبل ایران کا کارگو جہاز قبضے میں لیے جانے پر چین نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جہاز کو زبردستی روکے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
ترجمان چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اُمید ہے کہ فریقین جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کے لیے ذمے دارانہ انداز میں کام کریں گے، موجودہ صورتِ حال نازک مرحلے پر ہے، امریکا ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں چین تعمیری کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب روس میں تعینات ایران کے سفیر کاظم جلالی نے تہران کے دفاعی عزم اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ متحد ہے اور قوم کے پاس کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے آہنی عزم موجود ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سینیٹ کام نے ایرانی جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی میرینز نے جہاز پر قبضہ کر لیا ہے، جہاز اب امریکی تحویل میں ہے۔
عالمی میرین ڈیٹا کے مطابق ’ایم وی توسکا‘ کنٹینر شپ ہے جو ایرانی پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے، 7 گھنٹے پہلے ، ایرانی جہاز کی رفتار انتہائی کم 1.2 ناٹس ریکارڈ کی گئی۔
اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ امریکا نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنا کر اس پر قبضہ کر لیا۔