میرپور میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن خواجہ مہران کے گھر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے چھاپے کے دوران برآمد ہونے والے سامان کی جانچ پڑتال میں مزید اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ایک لیپ ٹاپ، ایک آئی پیڈ جو خواجہ مہران کے زیرِ استعمال تھا، اور متعدد یو ایس بیز برآمد کی گئی تھیں۔ یو ایس بیز کے ابتدائی تجزیے میں دھرنے سے قبل کی تیاریوں سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز، خواجہ مہران کی اسلحہ کے ساتھ تصاویر، اور مبینہ طور پر وہ اسلحہ بھی ریکارڈ پر موجود پایا گیا جو بعد ازاں ایمبولینسوں کے ذریعے منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران خواجہ مہران کے بھائیوں کی اسلحہ کے استعمال اور ٹارگٹ پریکٹس سے متعلق ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جو مبینہ طور پر دھرنے پر روانگی سے قبل ریکارڈ کی گئی تھیں۔
مزید برآں، ایک یو ایس بی سے خواجہ مہران کے بھائی ہجران عرف جانی سے منسوب قابلِ اعتراض وڈیو مواد بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مذکورہ ڈیٹا میں متعدد خواتین کی قابلِ اعتراض ویڈیوز اور ریکارڈ موجود ہے، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ مہران اور ہجران کےخواتین کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
پولیس نے تمام ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر شواہد اپنی تحویل میں لے لیے ہیں، جبکہ خواجہ مہران، ہجران اور جانی کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ برآمد ہونے والے آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ کو بھی تفصیلی فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ اداروں کو بھجوا دیا گیا ہے
عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیے گئے وہ دعوے، جن میں پرامن رہنے اور پرامن جدوجہد جاری رکھنے کی بات کی گئی تھی، موجودہ صورتحال کی روشنی میں مکمل طور پر غلط ثابت ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ تنظیم کے بعض عناصر کا ایجنڈا امن و استحکام کے بجائے انتشار پیدا کرنا تھا