امریکہ اور برطانیہ کی فوجی عدالتوں میں ماضی میں عام شہریوں کے خلاف بیشتر مواقعوں پر مقدمات چلائے گئے ہیں جن میں قابلِ زکر بڑے مقدمات کی تفصیل کچھ ایسے ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ میں عام شہریوں کو فوجی عدالتوں میں بیشتر مواقعوں پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں امریکی انقلاب کےدوران برطانوی میجر جان آندرے پر جنرل جارج واشنگٹن کی قیادت میں فوجی ٹربیونلز کے ذریعے جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں پھانسی دی گئی۔اسی طرح سے امریکہ میں 1812 کی جنگ ایک برطانوی جاسوس پر جنرل اینڈریو جیکسن کے زیر قیادت کمیشن کے ذریعے مقدمہ چلایا گیا۔
اسی طرح میکسیکن امریکی جنگ کے دوران کمیشن، جو “جنگ کی کونسل” کے طور پر جانا جاتا تھا، امریکی سول وار کے دوران ملٹری ٹربیونلز کا استعمال ان مقامی امریکیوں پر مقدمہ چلانے کے لیے کیا گیا جنہوں نے امریکہ سے لڑا تھا۔ لنکن سازش کے حصہ داروں بشمول ڈیموکریٹک سیاست دان کلیمنٹ ایل ویلانڈیگھم، لیمبڈن پی ملیگن، اور بینجمن گوین ہیرس پر بھی فوجی کمیشن نے مقدمہ چلایا۔
مقبوضہ جرمنی میں میڈسن بمقابلہ کنسیلا میں، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ایک فوجی حکومت کی عدالت ایک امریکی بیوی پر مقدمہ چل سکتی ہے جس نے اپنے شوہر، ایئر فورس کے لیفٹیننٹ کو قتل کیا تھا۔ اسی طرح سے عراق 2008 میں، ایک فوجی جج نے امریکی فوج کے ایک ٹھیکیدار کو عراق میں اپنے ساتھی کو چاقو مارنے کا مجرم ٹھہرایا۔
امریکہ کے یہ واقعات اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اگر وہ دشمن کی مدد کریں یا مدد کرنے کی کوشش کریں، یا اگر وہ جان بوجھ کر دشمن کو پناہ دیں یا ان کی حفاظت کریں۔
اسی طرح سے برطانیہ کی فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کو جس طرح سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس حوالے سے بھی بیشتر مثالیں موجود ہیں۔ آر وی میک مہون اور کیلی : 2010 میں، شان میک موہن اور جیمز کیلی کو جسمانی نقصان پہنچانے کے ارادے سے غیر قانونی اور بدنیتی سے زخمی کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا جب کورٹ مارشل نے انہیں ٹرنر فیسلیٹیز مینجمنٹ کے ایک اور ملازم پر لاٹھی اور چاقو سے حملہ کرنے کا مجرم پایا تھا۔
اسی طرح سے فنڈلے وی برطانیہ کے واقعے میں مسٹر فنڈلے پر ایک ایسے واقعے کے بعد متعدد جرائم کا الزام لگایا گیا جس میں وہ ملوث تھا۔ ایک سویلین کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ جو منسٹری آف ڈیفنس میں ملازم تھا نے مسٹر فِنڈلے کا معائنہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ التجا کرنے کے قابل ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ واقعے کے وقت کیا کر رہے تھے۔
ایچ وی وزارت دفاع : ایک RAF کارپورل نے وزارتِ دفاع کے خلاف جنسی زیادتی کا دعویٰ جیت لیا حالانکہ اس کے حملہ آور کو کورٹ مارشل میں بری کر دیا گیا تھا۔ مسٹر بائیو: مسٹر بایو نے معافی حاصل کرنے کے بعد فوج میں مذہبی امتیاز کے حوالے سےاپنا دعویٰ جیت لیا تھا۔
اس طرح ایسے بیشتر واقعات ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہوتے رہے ہیں اور انہیں فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔