سڑک پر عوامی عدالت، بھارتی سیاستدان کو جوتوں کا ہار پہنا دیاگیا

سڑک پر عوامی عدالت، بھارتی سیاستدان کو جوتوں کا ہار پہنا دیاگیا

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں کرپشن کے الزامات پر حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے دو رہنماؤں کو شدید عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ایک رہنما کو جوتوں کا ہار پہنا کر علاقے میں گھمایا گیا جبکہ دوسرے پر عدالت پیشی کے دوران انڈے پھینکے گئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع ہوگلی میں سابق میونسپل چیئرمین اور مقامی کونسلر سواپن سمانتا کے خلاف بدعنوانی پر شہریوں نے احتجاج کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل افراد نے سواپن سمانتا کو جوتوں کا ہار پہنایا اور علاقے میں گھمایا۔ مظاہرین نعرے بازی کرتے رہے جبکہ بعض افراد نے انہیں کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے پر بھی مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیں :چڑیا گھر میں خوفناک واقعہ، 3 سالہ بچہ مگرمچھوں کے حوالے

میڈیارپورٹس کے مطابق احتجاج کرنے والے افراد نے سواپن سمانتا پر مبینہ طور پر کوئلے کی چوری اور مویشیوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے، جبکہ مظاہرے کے دوران ان پر انڈے اور ٹماٹر بھی پھینکے گئے۔

دوسری جانب ٹی ایم سی کے سابق رکن اسمبلی رامندو سنگھا رائے کو بھی عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس کی جانب سے گرفتاری کے بعد انہیں عدالت لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں موجود افراد نے ان پر انڈے پھینکے اور کرپشن کے خلاف نعرے لگائے۔

یہ بھی پڑھیں :ایسا بندر جس کی شکل سب سے الگ ہے,سرخ چہرہ کس بات کی علامت

مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ رامندو سنگھا رائے نے غیر قانونی طریقے سے زمینیں حاصل کیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بدعنوانی میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں رامندو سنگھا رائے سے منسوب ایک ٹیچرز ٹریننگ کالج سے مبینہ طور پر سرکاری امدادی سامان برآمد ہونے کا دعویٰ سامنے آیا تھا، جس میں سرکاری لوگو والے ترپال، کمبل اور ڈسٹ بن شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں :اسکردو کے پہاڑوں میں چھپا راز آخر سامنے آگیا

اس معاملے کے بعد پولیس نے ان کے خلاف غیر قانونی ذخیرہ اندوزی، دھمکانے اور اسلحہ ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کے بعد سابق رکن اسمبلی کو بھارتی ریاست کرناٹک سے گرفتار کیا گیا۔عدالت میں پیشی کے موقع پر رامندو سنگھا رائے نے میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔

editor

Related Articles