امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں ایک بار پھر پیش رفت کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تکنیکی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری انداز میں آگے بڑھتا ہے تو واشنگٹن بھی ایک قابل قبول معاہدے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام، عالمی توانائی منڈیوں میں توازن اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کی آزادی امریکا کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
کویت میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور حالیہ سفارتی پیش رفت میں ان ممالک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں متعدد اہم معاملات زیر غور ہیں جن میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں اور معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار شامل ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کو امید ہے کہ طے پانے والے معاہدے پر آئندہ ساٹھ روز کے اندر عملی پیش رفت شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں مسلسل رابطے میں ہیں اور مختلف نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال جاری ہے۔ اسی سلسلے میں مذاکرات کا اگلا دور 30 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگا جہاں فریقین معاہدے کی تفصیلات کو مزید واضح اور حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے اس لیے وہاں جہاز رانی کی مکمل آزادی یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو اس اہم گزرگاہ پر اضافی ٹیکس یا محصول عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کرے گا۔ اگر معاہدے کی شرائط کا احترام کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور خطے میں استحکام کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں تاہم معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں امریکا کے پاس دیگر سفارتی اور سیاسی آپشنز بھی موجود رہیں گے۔