امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت کے تناظر میں پاکستان میں بھی اعلیٰ سطح پر مشاورت کا عمل تیز ہو گیا ہے اور وزیراعظم نے قومی سلامتی و خارجہ امور پر اعلی سطح کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خطے کی بدلتی صورتحال امریکا ایران مذاکرات کے ممکنہ اثرات اور پاکستان کی آئندہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ حکام اس بات کا جائزہ لیں گے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو کس حد تک سفارتی توازن برقرار رکھنا چاہیے۔
اجلاس میں سکیورٹی، معاشی اور علاقائی استحکام کے پہلوؤں پر بھی تفصیلی بات چیت متوقع ہے جبکہ توانائی، تجارت اور دفاعی معاملات پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کی حمایت کی پالیسی پر قائم رہنے کا امکان ہے تاہم بدلتی صورتحال کے پیش نظر نئی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور میں کن نکات کے باعث ڈیڈ لاگ ہے اس کا جائزہ لیکر پاکستان کی طرف سے نئی حکمت عملی کا تعین کیا جائیگا تاکہ پاکستان کے ثالثی کے کردار کو فائدہ مند بنایا جائے
وزیر اعظم اعلی حکومتی شخصیات کو امریکا اور ایران کے مابین بات چیت کیلئے پاکستان کی طرف سے کی گئی کوششوں سے بھی آگاہ کریں گے اور حالیہ صورتحال کے تناظر میں تجاویز بھی لی جائیں گی جس کے بعد آئندہ کیلئے اہم فیصلے کیے جائیں گے
واضع رہے کہ آج امریکا ایران جنگ بندی کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد امریکی صدر کی طرف سے پاکستان کی سفارش پر فی الوقت کسی جنگی اقدام نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گی ہے جس کا اظہار ٹرمپ نے میڈیا کے ذریعے بھی کیا ہے۔