ایران کی پارلیمان کے نائب اسپیکر حامد رضا نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر عائد کیے گئے ٹول ٹیکس سے پہلی آمدنی ایران کو موصول ہو گئی ہے اور یہ رقم مرکزی بینک کے کھاتے میں جمع کر دی گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق حامد رضا نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ آمدنی کس ذریعے سے حاصل کی گئی اور کن فریقین سے وصول کی گئی ہے،ان کے بیان کے بعد اس معاملے پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی اضافی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب دو بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کی ویڈیو جاری کی ہے،رپورٹ کے مطابق ان دونوں جہازوں کو بعد ازاں ایرانی ساحلی حدود میں منتقل کر دیا گیا، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بحری نقل و حرکت اور سکیورٹی صورتحال پہلے ہی حساس بنی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال نے نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کی بھی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے، جبکہ خطے میں سفارتی اور عسکری سطح پر سرگرمیاں مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔